2006: بھارت میں قانون کی بالادستی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں 2006 ایک ایسا سال رہا جس میں عوام کے قانون پر اعتماد کی بحالی میں خاصی پیش رفت ہوئی۔ اس سال میں ملک کے چند طاقتور لوگوں کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا دی گئی جس سے بھارت میں قانون کی بالادستی سامنے آئی اور لوگوں کی بڑی تعداد کا ملک کے لڑکھڑاتے ہوئے قانونی نظام پر اعتماد بحال ہوا۔ پہلی دفعہ کابینہ کے کسی وزیر کو قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا دی گئی حالانکہ سزا پانے والے یہ وزیر شبو سورن برسرِ اقتدار جماعت کانگریس پارٹی کے اہم اتحادیوں میں سے تھے۔ چند دن قبل سابق کرکٹ کھلاڑی اور پارلیمانی رکن نوجوت سنگھ سدھو کو بھی قتل کی سازش میں ملوث پائے جانے پر قید کی سزا سنائی گئی۔ بھارتی عوام سیاستدانوں کے جرائم میں ملوث ہونے کی خبروں کے عادی ہو چکے ہیں لیکن ایک حالیہ مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ ملک کے ایک چوتھائی پارلیمانی اراکین کو قتل، اغواء اور ریپ جیسے جرائم کی فردِ جرم کا سامنا ہے۔ بھارتی انتخابی قوانین کے تحت کسی امیدوار پر انتخابات میں حصہ لینے پر صرف اس صورت میں پابندی عائد ہوتی ہے جب اس پر لگائے گئے الزامات ثابت ہونے کے بعد اسے سزا دے دی جائے۔ میڈیا کی آزادی بھارت میں 2006 کے دوران قانونی بالادستی میں متحرک میڈیا کا کردار اہم رہا ہے۔ چند نئے بھارتی ٹی وی چینلز کی مہم کی وجہ سے دلی میں قتل کے دو مقدامات کی تحقیقات دوبارہ کروائی گئیں جس کے بعد کانگریس پارٹی کے ایک رکن کے بیٹے منو شرما کو ایک ماڈل کے قتل کا قصوروار قرار دیا گیا۔ اسی طرح ایک سینیئر پولیس آفیسر کے بیٹے کو دس سال قبل کالج کے ایک طالبعلم کے قتل کے الزام سے بری ہونے کے باوجود اس سال مقدمہ دوبارہ کھلنے کے بعد مجرم پایا گیا اور سزا دے دی گئی۔
تو کیا قانون ملک کے امیر اور طاقتور لوگوں پر حاوی ہو رہا ہے؟ یہ بات واضح ہے کہ میڈیا کی آزادی اور مقابلہ بازی کی وجہ سے ایسی شخصیات کے لیے کم از کم قتل جیسے جرائم سے جان چھڑوانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ تاہم عام لوگوں کے لیے قانونی نظام میں ابھی بھی بہت سے کمزوریاں موجود ہیں۔ ایک اندآزے کے مطابق بھارتی عدالتوں میں بیس لاکھ کے قریب مقدمات زیرِ سماعت ہیں جن میں سے بیشتر مقدمات کئی سالوں سے عدالتوں میں پڑے ہیں لیکن ان کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ بڑے شہروں سے دور چھوٹی عدالتوں میں اب بھی اثر رسوخ کا ناجائز استعمال کیا جا رہا ہے اور پولیس میں بدعنوانی کافی حد تک عام ہے لیکن عوام کی اکثریت کے لیے دو ہزار چھ نے بھارتی عدلیہ کی تاریخ پر لگے ہوئے کئی دھبے مٹا دیے ہیں۔ نچلی ذاتوں کے مسائل 2006 میں نچلی ذاتوں کے مسائل کے حل کے لیے بھی عملی اقدامات کیئے گئے۔
فلاح و بہبود کے کاموں میں پہلے تو صرف نچلی ذات کے ہندوؤں اور دلتوں کی طرف توجہ دی جاتی تھی لیکن اب پسماندہ مسلمانوں کی طرف بھی توجہ دینے پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی نچلی ذاتوں اور پسماندہ طبقوں کے کوٹے مخصوص کرنے کے بارے میں سوچ بچار کی جا رہی ہے۔ تاہم ان اقدامات کی وجہ سے بڑے کالجوں کے طلباء اور ڈاکٹروں کی جانب سال بھر مظاہرے جاری رہے کیونکہ ان کے بقول یہ اقدامات محض سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ دو ہزار سات؟ تاہم ان اقدامات سے بھارت میں صدیوں سے تنگ دستی اور تعصب کا شکار ہونے والے غریب طبقوں کو مدد ملے گی۔ خودمختاری کے ساٹھویں سال میں داخل ہوتے ہوئے بھارتی معیشت تیز ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ملکی سیاست میں ٹھہراؤ نطر آ رہا ہے اور عوام کی بڑی تعداد مستقبل کے لیے پُر جوش اور پُر اعتماد دکھائی دیتی ہے۔ بھارت میں 2007 میں بھی مضبوط اور کامیاب معاشرے کی تعمیر کا عمل جاری رہنے کی توقع ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تعمیر مساوات اور انصاف کی بنیادوں پر ہی کی جائے گی؟ | اسی بارے میں وزیر کے بیٹے کو عمر قید کی سزا20 December, 2006 | انڈیا شیبو سورین کو عمر قید کی سزا 05 December, 2006 | انڈیا مٹّو قتل:’ سنتوش سنگھ مجرم ہے‘ 17 October, 2006 | انڈیا کوٹے کے لیئے نئی کمیٹی مقرر17 May, 2006 | انڈیا ریزرویشن کی سیاست16 May, 2006 | انڈیا مہاراشٹر: ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری 05 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||