مٹّو قتل:’ سنتوش سنگھ مجرم ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی ہائی کورٹ نے طالبعلم پریہ درشنی مٹو قتل معاملے کے اہم ملزم سنتوش سنگھ کو قتل اور عصمت دری کا مجرم ٹھہرایا ہے۔ عید اور دیوالی کی چھٹی کے بعد تیس اکتوبر کو عدالت اس کی سزا سنائے گی۔ مجرم سنتوش سنگھ خود ایک وکیل ہیں جنہیں عدالت کے فیصلے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دلی یونیورسٹی میں شعبہ قانون کی طالبہ پریہ درشنی مٹّو کا قتل سنہ انیس سو چھیانوے میں ہوا تھا اور اس کے لیے سنتوش پر قتل کا مقدمہ چلا لیکن ناکافی ثبوتوں کے سبب ذیلی عدالت سے وہ بری ہوگئے تھے۔ چھ برس قبل ہائی کورٹ میں اس کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی۔ لیکن زبردست عوامی دباؤ کے سبب اس کیس کی تیزی سے سماعت اس برس جولائی میں شروع ہوئي تھی۔ دلی پولیس کے ایک سینئر افسر کے بیٹے سنتوش سنگھ اور پردرشنی مٹّو دلی یونیورسٹی میں ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ سنتوش پر الزام تھا کا انہوں نے مٹّو کو مہینوں ہراساں کیا اور پھر عصمت دری کرنے کے بعد اسے قتل کردیا۔ 1999 میں جج نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے وقت کہا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ مسٹر سنگھ مجرم ہیں لیکن ناکافی ثبوتوں کے سبب انہیں مجبوراً انہیں رہا کرنا پڑا رہا ہے۔ اس قتل کی تفتیش کی ذمہ داری مرکزی تفتیشی بیورو یعنی سی بی آئي کو سونپی گئی تھی۔ ناکافی ثبوتوں کے سبب ذیلی عدالت نے سی بی آئی پر بھی سخت نکتہ چینی کی تھی اور کہا تھا کہ ایجنسی نے تفتیش میں کوتاہیاں برتی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں ’ملزم کے والد کی مداخلت صاف نظر آتی ہے اور پولیس کی تفتیش میں دانستہ طور پر غفلت کا ارتکاب کیا گیا ہے‘۔ محترمہ پریہ درشنی مٹّو کی لاش جنوبی دلی میں ان کےفلیٹ سے بر آمد ہوئی تھی۔ انہیں گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا تھا اور انہیں ہلاک کرنے سے قبل اذیتی دی گئی تھیں۔ان کے جسم پر زخموں کے کم از کم انیس نشان ملے تھے۔ ملزم کی رہائی سے دارالحکومت دلی میں عوام میں کافی مایوسی ہوئی تھی اور پھر عوامی سطح پر پریہ درشنی کو انصاف دلانے کی مہم شروع ہوئی تھی۔ ایک دیگر معاملے میں ماڈل جیسکا لعل کے قتل کے سلسلے میں بھی میڈیا میں زبردست مہم چل رہی ہے۔ اس واقعے میں بھی اصل ملزم باثر سیاسی رہنماؤں کے بیٹے ہیں اور گواہوں کے منحرف ہونے کے سبب ذیلی عدالت سے باعزت بری ہوچکے ہیں۔ اس مقدمے میں خود پولیس کے بعض تفتیش کاروں کا کردار بھی مشکوک ہے۔ یہ مقدمہ بھی ہائی کورٹ میں ترجیحی بنیادوں پر زیر سماعت ہے۔ | اسی بارے میں جیسیکا قتل کی دوبارہ تفتیش06 March, 2006 | انڈیا جیسیکا قتل کیس: ہائی کورٹ میں اپیل13 March, 2006 | انڈیا جیسیکا کیس: ملزموں کے وارنٹ 22 March, 2006 | انڈیا جیسیکا کیس: ملزموں کی ضمانت18 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||