جیسیکا کیس: ملزموں کی ضمانت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی ہائی کورٹ نےماڈل جیسکا لعل کے قتل کے معاملے میں آٹھ ملزموں کو ضمانت پر رہائی کا حکم سنایا ہے۔ اس معاملے کے اہم ملزم منو شرما سمیت آج آٹھ ملزم عدالت میں حاضر ہوئے تھےجنہیں ذاتی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا گیا۔ایک ملزم وقاص گل کے عدالت میں حاضر ہونے پر بلاضمانتی وارنٹ جاری کیے ہیں۔ سات برس قبل جیسکا لعل کو ایک نجی پارٹی میں سر عام گولی مار دی گئی تھی لیکن نا کافی ثبوتوں کے سبب ذیلی عدالت نے سبھی ملزمان کو بری کر دیا تھا۔ ہریانہ کی حکومت میں ایک وزیر کے بیٹے منو شرما اس معاملے کے اصل ملزم ہیں جنہیں ضمانت کے لیے ایک لاکھ روپے جمع کرانے پڑے ہیں جبکہ دیگر ملزمان کو پچاس پچاس ہزار روپیے کے مچلکے پر ضمانت دی گئی ہے۔ کورٹ نے اس معاملے کی آئندہ سماعت کے لیے پندرہ مئی کی تاریخ مقرر کی ہے اور ہدایت دی ہے کہ اس روز سبھی ملزم عدالت میں حاضر ہوں۔ عدالت نے اس کیس کے تمام دستاویزات کوجلد سےجلد انگریزی میں ترجمہ کرنے کو کہا ہے اور اسے صرف چارہفتوں میں مکمل کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ جیسکا کی بہن سبرینا لعل نے عدالت کے عمل پر اطمینان کااظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ معاملہ جلدی اپنے انجام کو پہنچے گا۔ یہ معاملہ سات برس پرانا ہے۔ اپریل 1999 میں جنوبی دلی کے ایک پرائیوٹ پارٹی میں ماڈل جیسیکا لعل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔جیسیکا اس وقت مشہور فیشن ڈیزائنر بینا رمانی اور ان کی بیٹی مالینی رمانی کی پرائیوٹ پارٹی میں لوگوں کو شراب پیش کر رہی تھیں۔ پولیس کے مطابق پارٹی میں موجود منو شرما نے جیسیکا سے شراب مانگی لیکن اس وقت کافی رات ہو چکی تھی اور شراب پیش کرنے کا وقت ختم ہو چکا تھااس لیے جیسیکا نے منو شرما اور اس کے دوستوں کو شراب دینے سے منع کردیا اس پرمنو شرما نے جیسیکا کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ سات برس تک جاری رہنے والی عدالت کی پیشیوں کے دوران اس معاملے کے تین چشم دید گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگئے۔ ان چشم دید گواہوں میں فلم ’جھنکار بیٹس‘ کے ہیرو شیام منشی، کرن راجپوت اور شیوداس شامل تھے۔ اس معاملے کی تفتیش کرنے والے کئی پولیس افسروں پر بھی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں کہ انہوں نے با اثر ملزموں کی رہائی کے لیے جان بوجھ کر کیس کو کمزور کیا۔ | اسی بارے میں جیسیکا قتل کی دوبارہ تفتیش06 March, 2006 | انڈیا جیسیکا قتل کیس: ہائی کورٹ میں اپیل13 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||