جیسیکا قتل کی دوبارہ تفتیش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی پولیس نے ماڈل جیسیکا لال کے قتل کی نئے سرے سے تفتیش کا اعلان کیا ہے۔ جیسیکا لال کو اپریل 1999 میں جنوبی دلی کے ایک ریستوراں میں لوگوں کی بھیڑ میں گولی مار کر قتل کر دیاگیا تھا۔ حال ہی میں اس معاملے کے سبھی ملزم ناکافی شواہد کے سبب رہا کر دیئے گئے تھے۔ پولیس کے تفتیش کاروں پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے با اثر ملزموں کو رہا کرنے کے لیئے جان بوجھ کر شواہد کو ضائع کردیا تھا۔ ملزموں کی رہائی کے فیصلے کے خلاف زبردست احتجاج کے بعد ہی دلی پولیس نے اس کیس کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دلی پولیس کمشنر کے کے پال نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس کیس سے متعلق تمام پہلوؤں کی نئے سرے سے تفتیش کرنے کے لیئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت اس کیس کی تفتیش کرنے والے بعض پولیس افسران کے خلاف سازش کرنے، اور ثبوت مسخ کرنے کا مقدمہ درج کیا گيا ہے‘۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ گزشتہ مہینے دلی کی ایک ذیلی عدالت نے اس معالے میں اہم ملزم کے ساتھ ساتھ نو افراد کو بری کر دیا تھا۔ عدالت نے یہ فیصلہ پختہ ثبوت حاصل نہ ہونے کی بنیاد پر سنایا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق اپریل 1999 کی رات جیسیکا لال جنوبی دلی کے ایک ریستوراں میں ایک پرائیوٹ شراب خانے میں شراب پیش کر رہی تھیں۔ اس پارٹی کا انتظام مشہور فیشن ڈیزائنر بینا رمانی اور ان کی بیٹی مالینی رمانی نے ذاتی طور پر کیا تھا۔ قانوناً وہاں اس طرح کی پارٹی کی اجازت نہیں تھی۔ پولیس کے مطابق پارٹی کے دوارن منو شرما اور اس کے دوستوں نے جیسیکا لال سے رات دیر گئے شراب مانگی لیکن جب جیسیکا نے شراب دینے سے انکار کیا توملزم منو شرما نے اسےگولی مار دی۔ اس معاملے کے اہم ملزم منوشرما کانگریس کے ونود شرما کے بیٹے ہیں جو ہریانہ میں بجلی کے وزير ہیں۔ یہ مقدمہ تقریبًا چھ برس تک چلا اور بیشتر مقدموں کی طرح اس میں بھی سبھی گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگئے۔ پولیس نے جس طرح تفتیش کی تھی وہ اتنی ناقص تھی کہ خود عدالت کے جج نے ملزموں کو بری کرتے وقت تفتیش کاروں کی سرزنش کی تھی۔ پولیس کی تفتیش کے خلاف بڑے پیمانے پر ناراضگی پھیلی ہوئی ہے اور ذرائع ابلاغ میں ملک کے انصاف کے نظام پر بحث چھڑ گئی ہے۔ شہر میں تقریبًا روزانہ ہی احتجاجی مظاہرے اور جلوس وغیرہ نکالے جا رہے ہیں۔ پولیس زبردست دباؤ میں ہے۔ اس سلسلے میں بعض افسروں کے خلاف کارروائی شروع بھی کر دی گئی ہے۔ حکومت بھی عوامی ناراضگی کے پیش نظر اس معاملے پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ | اسی بارے میں سیف علی خان کی گرفتاری، رہائی11 December, 2005 | فن فنکار راج ببر پارلیمانی بورڈ سے معطل07 February, 2006 | انڈیا بالی وڈ کی اداکارہ نادرہ انتقال کر گئیں09 February, 2006 | انڈیا سلمان خان کو قید کی سزا17 February, 2006 | فن فنکار 376 بدقسمت ہندوستانیوں پر فلم27 February, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||