سلمان خان کو قید کی سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست راجھستان کی ایک عدالت نے فلمی اداکار سلمان خان کو غیر قانونی شکار کا مجرم قرار دیتے ہوئے ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔ سلمان خان اس مقدمے کے دوران اپنے آپ کو بے قصور قرار دیتے رہے تاہم ان پر سنہ 1998 میں دو کالے ہرنوں کا شکار کرنے کا جرم ثابت ہوگیا اور انہیں حیوانات کے تحفظ سے متعلق قانون کے تحت سزا دی گئی ہے۔ سلمان نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔ ان کے وکیل دپیش مہتہ نے بتایا کہ عدالت کے فیصلے کی تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد ایک مہینے کے اندر اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جائیگی۔ اس معاملے میں سلمان خان کے علاوہ اداکار ستیش شاہ اور چھ دیگر افراد کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا لیکن باقی ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔ تاہم عدالت نے اس معاملے میں اداکارہ تبّو ، نیلم اور سونالی باندرے کو مزید پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔ سلمان خان کے خلاف یہ مقدمہ مقامی بھیشونی قبائل کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ یہ قبائل کالے ہرن کی پوجا کرتے ہیں اور انہوں نے اخبارات میں اس واقعہ کے سامنے آنے کے بعد احتجاج بھی کیا تھا۔ سلمان خان کے خلاف یہ مقدمہ جودھ پور کی ایک عدالت میں سات سال جاری رہا اور گزشتہ ماہ ہی سلمان خان نے اس مقدمے کی طوالت سے تنگ آ کر عدالت سے کہا تھا کہ ’میں اس طویل مقدمے سے تنگ آ گیا ہوں، مجھے پھانسی دے دی جائے‘۔ ہندوستان میں کالا ہرن ایک نایاب نسل کا ہرن ہے۔ اور نایاب ہونے کی وجہ سے ان کے شکار پر پابندی عائد ہے۔ سلمان خان اپنی ایک فلم’ ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے سلسلے میں جودھ پور میں تھے جب شکار کا یہ واقعہ رونما ہوا تھا۔ غیر قانونی شکار کا معاملہ بالی وڈ کے اس مشہور ہیرو پر درج واحد مقدمہ نہیں بلکہ ان پر ممبئی میں سنہ 2002 میں فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے افراد پر گاڑی چڑھانے کے معاملے میں بھی مقدمہ چل رہا ہے۔ اس حادثے میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ اس سلسلے میں سلمان خان پر دس الزامات ہیں جن میں انہیں قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم وہ ان تمام الزامات سے انکار کرتے آئے ہیں۔ | اسی بارے میں ’مجھے پھانسی کیوں نہیں دیدیتے‘12 January, 2006 | انڈیا عدالت: سلمان کو دس دن کی مہلت 15 December, 2005 | فن فنکار سلمان خان کی ضمانت منسوخ13 December, 2005 | فن فنکار سلمان خان کی گرفتاری پر مشورہ 20 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||