BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جیسیکا کیس: ملزموں کے وارنٹ

احتجاج
ذیلی عدالت کے فیصلے سے ہندوستان میں انصاف کے نظام پر بحث شروع ہوگئی تھی
جیسیکا لعل قتل کے ملزموں کو بری کیئے جانے کے معاملے میں دلی پولیس کی اپیل پر ہائی کورٹ نےاس کیس میں ملوث نو افراد کے خلاف وارنٹ جاری کر دیئے ہیں۔

سات سال قبل ماڈل جیسیکا لعل کو ایک نجی پارٹی کے دوران سر عام گولی مار دی گئی تھی لیکن ثبوت نہ ملنے پر عدالت نے ملزمان کو بری کر دیا تھا جس کے بعد ملک کے نظام انصاف پر جیسیکا لعل کیس ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔

بدھ کو عدالت نے ان نو افراد کے خلاف ضمانتی وارنٹ جاری کرتے ہوئے اس معاملے کے اہم ملزم منو شرما کو آئندہ ماہ کی اٹھارہ تاریخ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے نو ملزمان پر ملک سے باہر جانے کی بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

ہائی کورٹ کے حکم پرجیسیکا لال کی بہن سبرینا لعل نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت کے اس حکم کے سبب اب ملزمان کو ملک سے باہر جانے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکے گی کیوں اکثر ملزم جب ملک سے باہر چلے جاتے ہیں تو انہیں پکڑنا مشکل ہو جاتا ہے‘۔

گزشتہ ماہ دلی پولیس نے ہائی کورٹ میں ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں اس معاملے کے تمام افراد کو عدالت نے ناکافی ثبوت کی بنا پر رہا کر دیا تھا۔

ذیلی عدالت نے اس معاملے کے اہم ملزم منوشرما کے علاوہ رکن پارلیمان ڈی پی یادو کے بیٹے ویکاس یادو، ہندوستان کے سابق صدر شنکر دیال شرما کے رشتے دار شیام سندر شرما، کرکٹر یووراج سنگھ کے والد یوگ راج سنگھ ، سافٹ ڈرنک کمپنی کے مالک امر دیپ سنگھ اور آلوک کھننا سمیت حروندر چوپڑا ، ویکاس گل اور راج چوپڑا کو رہا کیا تھا۔

جیسیکا لال کیس کے لیے پولیس پر دباؤ تھا

ذیلی عدالت کےجج نے ملزموں کو بری کرتے ہوئے پولیس تفتیش پر سوال اٹھاتے ہوئے تفتیش کاروں کی بھی سرزنش کی تھی۔

ذیلی عدالت کے فیصلے نے ہندوستان میں انصاف کے نظام پر ہی ایک بحث چھیڑ دی تھی۔ ذرائع ابلاغ میں اس معاملے کو لیکر خصوصی مہم بھی چھیڑ دی گئی۔

زبردست دباؤ کے بعد دلی پولیس حرکت میں آئی اور یہ کیس دوبارہ روشنی میں آیا۔

یہ معاملہ سات برس پرانا ہے۔ اپریل 1999 میں دلی کے جنوبی علاقے میں جاری ایک پرائیوٹ پارٹی میں ماڈل جیسیکا لعل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

جیسیکا اس وقت مشہور فیشن ڈیزائنر بینا رمانی اور ان کی بیٹی مالینی رمانی کی پرائیوٹ پارٹی میں لوگوں کو شراب پیش کر رہی تھیں۔

پولیس کے مطابق پارٹی میں موجود منو شرما نے رات گئےماڈل جیسیکا سے شراب مانگی لیکن اس وقت کافی رات ہو چکی تھی اور شراب پیش کرنے کا وقت ختم ہو چکا تھا۔

جیسیکا کو ایک نجی پارٹی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا
جیسیکا نے منو شرما اور اس کے دوستوں کو شراب پیش کرنے سے انکار کیا تو منو شرما نے جیسیکا لعل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

سات برس تک جاری رہنے والی عدالت کی پیشیوں کے دوران اس معاملے کے تین چشم دید گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگئے۔ ان چشم دید گواہوں میں فلم ’جھنکار بیٹس‘ کے ہیرو شیام منشی، کرن ن راجپوت اور شیوداس شامل تھے۔

اس معاملے کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکاروں پر بھی یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے با اثر ملزموں کو رہا کرنے کے لیئے جان بوجھ کر شواہد کو ضائع کر دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد