وزیر کے بیٹے کو عمر قید کی سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی ہائی کورٹ نے ماڈل جیسیکا لعل کے قتل کے مجرم منو شرما کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ قید کی سزا کے علاوہ عدالت نے منو شرما پر 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ منو شرما نے ماڈل جیسیکا لعل کو اپریل 1999 میں اس وقت گولی کا نشانہ بنایا جب انہوں نے منو شرما کو شراب پیش کرنے سے انکار کردیا تھا۔ پیر کو اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے منو شرما کے علاوہ ٹونی گل اور ویکاس یادو کو قصوروار قرار دیا تھا۔ بدھ کو عدالت نے ٹونی گل اور ویکاس یادو کو بھی چار، چار سال قید کی سزا کے علاوہ ان پر دو، دو ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ ان افراد کوشواہد مٹانے اور مجرمانہ سازش کرنے کے الزامات کے تحت قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔ یہ فیصلہ عدالت نے چشم دید گواہ بینا رمانی کی گواہی پر دیا۔ سزاؤں کا اعلان کرتے ہوئے عدالت نے پولیس کو ان گواہوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے جو تقریبًا ساڑھے سات سال سے جاری رہنے والے اس مقدمے میں اپنے بیانات سے منحرف ہو گئے تھے۔
اس مقدمے میں منحرف ہونے والے گواہوں کی تعداد 29 ہے جن میں تین چشم دید گواہ بھی شامل ہیں۔ سزاؤں کے اعلان پر جیسیکا لعل کی بہن سبرینہ لعل نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ پیر کو عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد منو شرما نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ پولیس نے انہیں تہاڑ جیل بھیج دیا ہے۔ دوسرے قصور وار ٹونی گل اس وقت عدالت میں موجود تھے جب یہ فیصلہ سنایا جا رہا تھا۔ عدالت کا فیصلہ آتے ہی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ اس مقدمے کے تیسرے قصور وار ویکاس یادو اپنے دوست نتیش کٹارا کے قتل کے مقدمے میں اہم ملزم ہونے کے سبب پہلے سے ہی جیل میں ہیں۔ ہندوستان کے قانون کے مطابق یہ سب ہی قصور وار اب سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں جیسیکا کیس: منو شرما قصوروار 18 December, 2006 | انڈیا جیسیکا قتل کی دوبارہ تفتیش06 March, 2006 | انڈیا جیسیکا قتل کیس: ہائی کورٹ میں اپیل13 March, 2006 | انڈیا جیسیکا کیس: ملزموں کے وارنٹ 22 March, 2006 | انڈیا جیسیکا کیس: ملزموں کی ضمانت18 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||