BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 December, 2006, 09:01 GMT 14:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی، ڈاکٹروں کی بھوک ہڑتال

ہڑتال
ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ اعلی سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلہ صلاحیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے
ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں بعض اعلی ذات کے ڈاکٹروں نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹروں نے یہ ہڑتال ہندوستان کی لوک سبھا یعنی پارلیمنٹ کے ایوانِ ز یریں میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پسماندہ ذاتوں کے لیے ستائیس فیصد نشستیں مخصوص کرنے کے بِل کو منظور کرنے کی مخالفت میں کی ہے۔

آل انڈیا میڈیکل انسٹیٹیوٹ آف سائنس کے کئی ڈاکٹروں نے اس احتجاجی ہڑتال کا اعلان کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ ہڑتال کے دوران مریضوں کا علاج جاری رکھیں گے۔

ریزیڈینٹ ڈاکٹر اسوسی ایشن کے نمائندہ ڈاکٹر انل شرما کا کہنا ہے ’ابھی تک پندرہ ڈاکٹر بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ہم نے اس ہڑتال کا فیصلہ اس لیے کیا ہے کیونکہ ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے مطالبے کو نظر انداز نہیں کرسکتی ہے‘۔

اعلی ذات کے ڈاکٹر حکومت کے فیصلے کے سخت خلاف ہیں۔ انکا مطالبہ ہے کہ اعلی سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلہ صلاحیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اگر پسماندہ طبقے کے طلباء کو اعلی تعلیمی اداروں میں داخلہ مختص سیٹوں کی بنیاد پر دیا جائے تو تعلیم کا معیار گر جائے گا۔

ڈاکٹر انل شرما نے بتایا کہ جمعہ کی شام کو ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن کی ملاقات ہوگی جس کے بعد آگے کی کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ’اس ملاقات میں ہم ان ڈاکٹروں اور طلباء سے رابطہ قائم کریں گے جو اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں‘۔

پسماندہ ذاتوں کے لیے ستائیس فیصد نشستیں مخصوص کرنے کا بِل پارلیمنٹ کے گزشتہ اجلاس میں پیش کیا گیا تھا لیکن اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی طرف سے شدید مخالفت کے سبب اسے مزید مطالعہ کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔ لوک سبھا نے جمعرات کو اس بِل کو متفقہ طور پر منظور کر دیا ہے۔

اعلی ذات کے ڈاکٹروں نے اس وقت بھی اس بل کی سخت مخالفت کی تھی جب انسانی وسائل کے وزیر ارجن سنگھ نے سال کے آغاز میں پسماندہ طبقوں کو اعلی تعلیمی اداروں میں ستائیس فی صد سیٹیں دینے کی بات کی تھی۔

اعلیٰ ذاتوں کے طلبہ نے اس بل کی شدید مخالفت کی ہے

ہندوستان کے سرکاری تعلیمی اداروں میں دلت اور قبائلی طبقوں کے لیے بائیس اعشاریہ پانچ فی صد سیٹیں پہلے ہی سے مختص ہیں۔ نئے بل کے تحت مسلمانوں سمیت تمام مذاہب اور پسماندہ ذاتوں کے لیے باوقار مرکزی تعلیمی اداروں میں ساتئیں فیصد سیٹیں مختص ہو جائیں گی۔

جمعرات کو لوک سبھا میں اس بل کو کسی مخالفت کے بغیر تمام سیاسی پارٹیوں نے منظور کر لیا تھا۔ اس کے بعد یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اعلی ذات کے ڈاکٹروں کی ہڑتال زیادہ اثر دار نہیں ہوگی۔ ان ڈاکٹروں کو کسی پارٹی کی طرف سے باقاعدہ حمایت حاصل نہیں ہے۔

حکومت نے اس بِل میں ان سفارشات کو بھی شامل نہیں کیا جن میں کہا گیا تھا کہ پسماندہ ذاتوں کے امیر طبقے کو ریزوویشن کی سہولت سے الگ رکھا جائے اور یہ بھی کہ اقلیتی ادارے بھی اپنے فرقے کے پسماندہ لوگوں کو ریزروویشن دیں۔

لوک سبھا میں منظوری کے بعد یہ بِل اب راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا اور دونوں ایوانوں میں منظوری کے بعد اس بِل کو صدر کے پاس بھیجا جائے گا اور ان کے دستخط کے ساتھ ہی یہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد