بہار کے کھوجی کتوں کی مشکلات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ دنوں بہار کی پولیس نے بڑے شوق سےاٹھارہ کتوں کی نمائش کی تھی۔یہ معمولی کتے نہ تھے بلکہ لیبراڈور نسل کے ان کتوں میں ہر ایک کی قیمت ستاسی ہزار روپے ہے۔ مگر دو چار دنوں میں ہی یہ انکشاف ہوا کہ تقریباً سولہ لاکھ روپے کے ان کتوں کی حالت ویسی ہی ہے جیسے بنا توپچی کے توپ کی ہو۔ انسانوں کے سب سے وفادار تصور کیے جانے والے جانور کی اس قسم کو عام طور پر کھوجی کتا کہا جاتا ہے جس کے لیے انگریزی میں ’سنیفر ڈاگ‘ کا لفظ مستعمل ہے۔یہ کتے ریاستی پولیس کے کرائم انوسٹیگیشن ڈپارٹمنٹ یا سی آئی ڈی کے لیے خریدے گۓ ہیں۔ ان کھوجی کتوں کا استعمال دھماکہ خیز مادوں کی تشخیص کے لیے ہونا ہے۔ لیکن سگ بانی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سنیفر ڈاگ کی سونگھنے کی صلاحیت اسی صورت میں کام میں آ سکتی ہے جب انہیں دو ہفتوں کے وقفے پر اس دھماکہ خیز مادہ کو سونگھایا جائے جس کے لیے اسے تربیت دی گئی ہے۔ میرٹھ سے منگائے گۓ یہ کتے آر ڈی ایکس اور لینڈ مائن کی پہچان کے لیے تربیت یافتہ ہیں۔ بہار پولیس نے ان کتوں کو منگا تو لیا لیکن اس کے پاس مذکورہ دھماکہ خیز مادے کی سخت قلت ہے۔ایسے میں ان کتوں کی تربیت کے بیکار ہو جانے کا خدشہ ہے۔ سی آئی ڈی کے انسپکٹر جنرل اور کتوں کی ڈیل کے اہم رکن اے سی ورما نے بتایا کہ ان کتوں کی تربیت کو دوام دینے کا انتظام ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق روایتی دھماکہ خیز مادوں کی وافر مقدار پولیس کے پاس موجود ہے لیکن جیلیٹین، ٹی این ٹی اور چند جدید دیگر دھماکہ خیز مادے پولیس کے پاس نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاگ سکواڈ کے پاس ساٹھ گرام آر ڈی ایکس بھی ہے۔ مسٹر ورما نے بتایا کہ ایکسپلوسوز کو یوں ہی نہیں خریدا جا سکتا۔اس کے لیۓ مرکزی حکومت سے لائسنس لینا ضروری ہے۔یہ طویل عمل ہے لیکن ان کے محکمے نے اس سلسلے کے اقدام شروع کر دیئے ہیں۔ انسان کا دیگر ذی روحوں سے مکالمے کے مشکلات کا سب کو معلوم ہے۔اس لۓ یہ کام جب تربیت یافتہ کتوں کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہو تو اس کی پریشانیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس کے لیۓ تربیت یافتہ ’ہینڈلر‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔ سی آئی ڈی کے ایک اہلکار نے مذاقاً کہا کہ ابھی یہ حالت ہے کہ کتوں کو سٹ ڈاؤن کا اشارہ کیا جاتا ہے تو وہ دوڑنے لگتے ہیں۔ ہینڈلر نہ ہونے کی وجہ سے نکسلی تشدد سے بری طرح متاثر ضلع گیا سے پٹنہ پہنچی پولیس کو خالی ہاتھ واپس ہونا پڑا۔ پولیس ذرائع کے مطابق سنیفر ڈاگ اور اس کے ہینڈلر کی ٹریننگ کو تربیت دلانے کے لیے گوالیار بھیجا جاتا ہے تاکہ کتا اور ہینڈلر ایک دوسرے کے اشارے کو سمجھ سکیں۔ آئی جی اے سی ورما کہتے ہیں ہینڈلر کے نام پر پولیس میں کوئی باضابطہ رینک نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کتے نہ ہونے کے سبب سنیفر ڈاگ کے ساتھ کام کرنے والے اہلکار مختلف شعبوں میں بھیج دیئے گۓ تھے۔ مسٹر ورما کے مطابق ان اہلکاروں کو واپس ڈاگ سکواڈ میں لانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں کتیا کے لیے چالیس ہزار پونڈ کا انعام27 August, 2005 | انڈیا بغیر طالبعلم کے یونیورسٹی31 May, 2006 | انڈیا بہار میں آرسینک کا مسئلہ03 May, 2006 | انڈیا بچے پھینکنے کے 20 روپے25 August, 2006 | انڈیا لیکن بنارس میں تو پان ہوتا ہی نہیں؟22 March, 2006 | انڈیا بہار پولیس حلیہ درست کرے: نتیش 22 December, 2005 | انڈیا کوک پیپسی کا استعمال بطور جراثیم کش06 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||