BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 May, 2006, 10:21 GMT 15:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغیر طالبعلم کے یونیورسٹی

بھارتی صدر عبدالکلام نے عربی و فارسی کی اس یونیورسٹی میں دلچسپی لی ہے۔
پٹنہ کے مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی کا قیام اس کے سائن بورڈ کے مطابق سنہ انیس سو بانوے میں ہوا تھا۔ چودہ سال بیت گۓ لیکن آج تک اس یونیورسٹی سے ایک بھی طالب علم کو ڈگری نہیں دی گئی کیونکہ کسی کا داخلہ ہی نہیں ہوا۔

اس یونیورسٹی کو عملی شکل دینے میں گذشتہ دو سالوں سے جدو جہد کر رہے وائس چانسلر ڈاکٹر پروفیسر شرف عالم کہتے ہیں کہ دنیا کی یہ واحد یونیورسٹی ہے جو بنا کسی کالج اور طالب علم کے چل رہی ہے۔

انہیں امید ہے کہ جلد ہی حکومت اس یونیورسٹی کو چند کورسز شروع کرنے کی اجازت دے گی۔

گذشتہ سال دسمبر میں صدر ڈاکٹر اے پی جےعبدالکلام بہار کے دورے پر آئے تو انکی ایک میٹنگ تمام وائس چانسلرز سے ہوئی۔عربی و فارسی یونیورسٹی کا نام سن کر خوش ہوئے لیکن صدر نے اس کی حالت پر اظہار افسوس کیا۔ ڈاکٹر کلام نے اس خواہش کا اظہار کیاتھا کہ مارچ دو ہزار چھ میں وہ دوبارہ آ‏‏ئیں گے تو اس یونیورسٹی کو عملی شکل میں دیکھنا چا ہیں گے مگر ان کی یہ اب تک خواہش پوری نہ ہو سکی۔

ڈاکٹر عالم نے بتایا کہ سنہ انیس سو بانوے میں ریاستی حکومت نے چھ یونیورسٹی کے قیام کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔ ان میں ایک یہ یونیورسٹی بھی تھا۔ بقیہ پانچ کو تو جلد ہی عملی شکل مل گئی مگر عربی و فارسی یونیورسٹی اب تک دفتر میں ہی چل رہی ہے۔

ڈاکٹر عالم نے بتایا کہ صدر صاحب کے دورے کے بعد اس وقت کے گورنر سردار بوٹا سنگھ نے انہیں بلاکر یونیورسٹی کو عملی شکل دینے کے لیے خاکہ تیار کرنے کو کہا۔ گورنر یونیورسٹی کے چانسلر ہوتے ہیں۔

وائس چانسلر شرف عالم نے بتایاکہ بوٹا سنگھ کی پیش قدمی پر انہوں نے چند تجاویز پیش کیں جن پر اتفاق بھی ہوگیا مگر عمل آج تک باقی ہے۔ ان میں ایک تجویز یہ تھی کہ ریاست کے مدرسوں سے عالم و فاضل کی ڈگری یونیورسٹی سے دی جائے۔

انہوں نے بتایاکہ عالم و فاضل کی ڈگری بالترتیب بی اے اور ایم اے کے مساوی ہے اور عجیب و غریب بات ہے کہ یہ ڈگری مدرسہ بورڈ سے دی جاتی ہے جبکہ یہ حق صرف یونیورسٹی کو ہے۔

یونیورسٹی کے لیے یہ تجویز پیش کی گئی کہ چند مدرسوں کا الحاق کم از کم سلیبس کی تیاری ، امتحان اور ڈگری دینے کے لیے کر دیا جائے۔

گورنر کو پیش کردہ تجاویز میں یہ کہا گیا تھا کہ یو نیورسٹی کے لیے پچاس ساٹھ ایکڑ زمیں فراہم کی جائے۔ یہ تجویز بھی پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ کے پاس زیر غور ہے۔

زمیں ملنے اور عمارت تیار ہونے کے بعد ہی یونیورسٹی گرانٹ کمیشن سے گرانٹ حاصل کی جا سکتی ہے۔

بوٹا سنگھ کے ساتھ مذکورہ یونیورسٹی کے لیے ٹیچنگ و غیر تدریسی عملے کے عہدے کی منظوری کی بات بھی طے پائی تھی۔

ڈاکٹر عالم نے بتایا کہ یونیورسٹی کو فوری طور پر عملی شکل دینے کے لیے انہوں نے پندرہ کورسز کا خاکہ تیار کیا تھا۔ان کورسز کو انٹر یونیورسٹی بورڈ نے منظوری دے دی۔ اب اسے حتمی منظوری گورنر و چانسلر سے ملنی ہے مگر وہاں بھی یہ تجویز جنوری سے پڑی ہے۔

ڈاکٹر عالم کے مطابق اس یونیورسٹی کے لیے ایران اور سعودی عربیہ سے بھی امداد کا آفر ملا ہے مگر جب کوئی طالب علم ہی نہیں تو مدد کس کے لیے لی جائے۔

نتیش کمار کی نئی حکومت بننے کے بعد اس یونیورسٹی کا چرچہ اس بات سے شروع ہوا کہ تعمیرات کے وزیر مناظر حسن یونیورسٹی کا دفتر کسی بہتر جگہ لے جانا چاہتے تھے مگر ریاست کے چیف سکریٹری جی اس کنگ کو اس بات پر اعتراض تھا کہ مجوزہ بلڈنگ کچھ زیادہ بڑی ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ نئی بلڈنگ کے آگے یونیورسٹی کا بورڈ لگا ہے۔

پرانی عمارت میں بھی ایک بورڈ لگا ہے۔ پرانی عمارت ایک ایم ایل اے کو الاٹ کر دی گئی ہے۔ نئی عمارت کا فرنیچر تیار نہیں ہے۔ ایم ایل اے کے سٹاف آئے دن پرانی عمارت خالی کرنے کو کہہ جاتے ہیں۔

کل ملا کر ایک یونیورسٹی کے دفتر کا بورڈ دو جگہ لگا ہے مگر اصل کام کا پتہ نہیں۔ ڈاکٹر عالم کہتے ہیں کہ شاید نئی عمارت میں کچھ نیا ہو۔

اسی بارے میں
تہران یونیورسٹی میں اردو
24 September, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد