تہران یونیورسٹی میں اردو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں تہران یونیورسٹی کے اردو شعبے میں جانے کے لیے وزارت اطلاعات کا خصوصی اجازت نامہ لیکر دانشگاہ کےصدر دروازے پر پہنچی تومحافظین نے اجازت نامہ کھول کر پڑھا اور یونیورسٹی کے گیٹ کھول دیے۔ ایران آنے سے پہلے ہی مجھے تہران یونیورسٹی دیکھنے کی خواہش اس لیے بھی تھی کہ یونیورسٹی اپنے طور پر ایران کی سیاسی تاریخ کا ایک مکمل باب ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں خصوصاً ٹی وی پر اس یونیورسٹی کے لاکھوں طلبا کے مظاہروں کی تصاویر اور امریکہ اور سابق شاہ ایران کے خلاف ان کے فلک شگاف نعرے اب بھی ہم میں سے بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔ یونیورسٹی سیاسی نکتہ نگاہ سے اب بھی اہم ہے۔ اس کے صدر دروازے سے بائیں جانب ایک وسیع و عریض ہال ہے۔ جہاں تہران میں نمازِ جمعہ کا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے۔ اور اسی نماز جمعہ کے خطبے میں حکومت کی پالیسوں اور ہفتے بھر کے حالات حاضرہ کا ذکر اور بعض اوقات اہم پالیسی بیانات دئے جاتے ہیں۔ اگر یہ طلباء کو سیاست سے باخبر رکھنے کے لیے ہے تو ایک اچھی کوشش ضرور قرار دی جا سکتی ہے لیکن لگتا یوں ہے کہ یہ عمل یکطرفہ ہے۔ کیونکہ خود طلباء سے سیاسی امور پر آزادانہ تبادلہ خیال ممکن نہیں۔ 1851 میں قائم ہونے والی ایران کی اس قدیم ترین اور سب سے بڑی سائنسی، تعلیمی اور تحقیقی یونیورسٹی کے اردو شعبے میں اسوقت 83 ایرانی طلبا اردو اور مطالعہء پاکستان بی اے میں اختیاری مضمون کے طور پر پڑھ رہے ہیں۔ ان کلاسوں میں اب ایم اے تک توسیع کی جا رہی ہے۔ اردو پڑھنے والے ایرانی طلبا اور طالبات کے علاوہ انکے ایرانی نژاد اساتذہ آقائے علی بیات اور وفا یزدانش سے زیادہ تر بات اردو کے مضمون کے گرد ہی رہی۔
مجھے آگاہ کر دیا گیا تھا کہ میں طلبا سے سیاسی موضوعات پر گفتگو نہ کروں۔ معلوم نہیں ایرانی قیادت کو اپنی نوجوان نسل پر اعتبار کیوں نہیں۔ بہر حال زیادہ تر طلباء اور اساتذہ نے اردو کی معیاری نصابی کُتب، اردو ادب اور پاکستان سے متعلق دوسرے موضوعات پر اردو میں کتابوں کی بیحد کمی کی شکایت کی اور کہا کہ پاکستا ن کے ارباب اختیار یہاں آ کر وعدے تو بہت کرتے ہیں مگر وعدے کبھی وفا نہیں ہوتے۔ تہران یونیورسٹی میں اگر چہ زبانہائے خارجہ یعنی فارن لینگویجیز کا شعبہ انیس سو نواسی میں قائم ہوا۔ لیکن اردو کا شعبہ اس سے بہت پہلے یعنی 1955 میں موجود تھا اور اسکی تصدیق شعبہ اردو کے موجودہ سربراہ اور پاکستان سے آئے ہوئے اردو کے استاد ڈاکٹر تحسین فراقی نے بھی کی۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ اردو مضمون کی ترویج و ترقی کے لیے محض زبانی جمع خرچ کے علاوہ کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا۔ ڈگری مکمل کرلینے والے طلباء بھی بمشکل اردو میں بات چیت کر رہے تھے۔ اردو ویسے تو اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کے مطابق دنیا کی تیسری بڑی بولی جانے والی زبان ہے لیکن پاکستان کی قومی زبان ہونے کے ناطے پاکستان سے ہی منسوب ہے لہذا اس کی حفاظت اور فروغ کی ذمہ داری بھی پاکستان کی قیادت اور عوام کی ذمےداری سمجھی جاتی ہے۔ طلباء میں ایک تاثر یہ بھی تھا کہ خود پاکستانی اپنی زبان کی قدر نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے میڈیا اور اخبارات میں بھی انگریزی الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے۔ اور بول چال میں تو بعض اوقات اردو تلاش کر نی پڑتی ہے۔ اردو شعبے میں ایک استاد وفا یزدانش پاکستان کی پنجاب یونیورسٹی کے اورینٹیل کالج سے اردو میں ماسٹرز کی ڈگری کرکے لوٹی ہیں۔ اور اب اردو میں پی ایچ ڈی کی تیاری کر رہی ہیں۔
وفا کا کہنا تھا کہ اردو ادب پڑھتے ہوئے کچھ بھی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔ فارسی اور اردو ادب میں سوچ بھی یکساں ہے۔ بلکہ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ کہ حافظ اور سعدی کو اردو میں پڑھ رہی ہوں۔ شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ فارسی اور اردو ادب کے رشتے کوئی نئے نہیں ہیں۔ پاکستان کے وجود میں آنے سے بہت پہلے سے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان لسانی اور ثقافتی تعلقات قائم تھے۔ کئی سو برسوں تک ایرانی شعراء، دانشور اور صوفیائے کرام برصغیر میں آتے اور آباد ہوتے رہے۔ اردو زبان میں الفاظ کا بیشتر ذخیرہ اور رسم الخط فارسی زبان سے ہی ماخوذ ہے۔ اردو شعبے کے سربراہ ڈاکٹر تحسین فراقی ایک استاد ہونے کے علاوہ ادیب اور دانشور بھی ہیں اور اردو کے علاوہ فارسی ادب سے بھی گہرا شغف اور لگاؤ رکھتے ہیں۔ ادب کسی بھی معاشرے میں تبدیلی سے متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا عکاس اور اس سے ہم آہنگ بھی ہوتاہے۔ ڈاکٹر تحسین فراقی سے ادب کا ذکر چلا تو میں نے پوچھا کہ اسلامی انقلاب کے بعد فارسی ادب میں کیا لکھا جارہا ہے۔ ان کی رائے تھی کہ کلاسیکی فارسی سرمایہ میں تو ظاہر ہے کہ بہت بڑے بڑے نام ہیں۔ مثلا حافظ ، فردوسی یا خیام جیسا کوئی دوسرا نہیں، اردو کی طرح ایرانی ادب میں بھی غزل شاعری کی اہم ترین صنف تصور کی جاتی ہے۔ تہران میں قیام کے دوران ایک غزل گو شاعرہ سپیدہ سامانی سے میری ملاقات ہوئی۔ خوش شکل اور خوش اخلاق سپیدہ لکھنے والوں میں ایک بہت نمایاں نام ہیں۔ ان کا غزلوں کا شعری مجموعہ شائع ہوچکا ہے۔ ان کی وجہ شہرت سیاسی شاعری بھی ہے۔ سپیدہ اور ان کے شوہر انقلاب کی پرجوش داعی رہے ہیں۔ مگر ان کی سیاسی شاعری کا مجموعہ ’ کتاب سبز‘ آج تک شائع نہیں ہوسکا۔ انھیں امید ہے کہ یہ ایک دن ضرور شائع ہوگا۔ سپیدہ کو اس پر بھی ملال تھا کہ فارسی غزل کلاسیکی اور روائتی طرز سے اس قدر دور نکل گئی ہے کہ اس کا اپنے قاری سے رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔ یہ فاصلے کم ہونا چائیے۔
اور فاصلے تو ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان بھی کم ہونے چاہئیں۔ ایران میں اپنے قیام کے دوران مختلف شہرو ں میں جانے اور بہت سے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا۔ میں نے محسوس کیا کہ فارسی اور اردو میں اس قدر مماثلت اور لسانی اور ثقافتی رشتوں کے باوجود نہ اردو بولنے والے فارسی سمجھتے ہیں اور نہ فارسی داں اردو۔ شاید ان دونوں کو قریب لانے کے لیے سفارتی لفاظی کے بجائے پر خلوص کوششوں کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں تہران خوب است مگر!21 July, 2005 | قلم اور کالم مشہد کے شب و روز02 September, 2005 | قلم اور کالم مٹی مٹی ہوگیا مٹی کا شہر 19 August, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||