مشہد کے شب و روز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تہران سےگھنٹے سوا گھنٹے کی پرواز کے بعد مشہد پہنچنے پر جیسے ہی ہمارے جہاز نے رن وے کو چھوا۔ یکدم جہاز میں درود و سلام کی آوازیں بلند ہوئیں۔ میں نے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی تو اکثر مسافر درود پڑھ رہے تھے۔ تہران سے روزانہ کوئی پندرہ کے قریب پروازیں مشہد آتی ہیں جو ایران کے شمالی صوبے خراسان میں واقع ہے۔ پروازوں میں کاروباری لوگوں کے علاوہ ایک بہت بڑی تعداد اُن زائرین کی ہوتی ہے جو اہلِ تشیع کے 8ویں امام، امام علی رضا کے روضے پر حاضری دینا چاہتے ہیں۔ میں نے اپنے ایران کے قیام کے دوران اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ اہلِ ایران کی اچھی خاصی اکثریت کی زندگیوں میں مذہبی مقامات کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ تہران میں جس کسی سے میں نے یہ ذکر کیا کہ میں مشہد جارہی ہوں ایک فوری رد عمل یہ ہوتا تھا ’التماس دعا‘ یعنی میرے لیے دعا کیجیےگا۔ اس امر کا احساس مجھے یہاں صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی رپورٹنگ کرتے ہوئے بھی ہوا تھا جب میں نے دیکھا کہ دارالحکومت تہران میں خاص طور پر انتخابی مراکز کی ایک غالب اکثریت مساجد میں بنائی گئی تھی۔ مشہدِ مقدس اور قُم ایران کے دو ایسے شہر ہیں جنہیں دنیائے شیعت میں مکّہ، مدینہ، نجفِ اشرف اور کربلا کے بعد اہم ترین زیارات تصور کیا جاتا ہے اور یہاں صدیوں سے سال بھر ساری دنیا سے آنے والے زائرین کا ایک تانتا بندھا رہتا ہے۔ایک سرکاری اندازے کے مطابق سال بھر میں دو کروڑ سے زیادہ زائرین مشہدِ مقدس میں آتے ہیں۔
تہران سےگھنٹے سوا گھنٹے کی پرواز کے بعد مشہد پہنچنے پرمیری منزل بھی امام رضا کا روضہ تھی۔ اس کا 50 میٹر قُطر کا سنہرا گنبد شہر میں داخل ہوتے ہی بہت دور سے نظر آ جاتا ہے۔ نہایت وسیع وعریض رقبے پر پھیلا ہوا203 ہجری کا امام رضا کا یہ حرم شہر در شہر کی مثال ہے۔ بس یوں سمجھ لیجئے جیسے اٹلی میں ویٹیکن ہے۔ مشہد کا مطلب ہے جائے مدفن شہید اور اسی مناسبت سے اسے مشہد الرضا کہا جاتا ہے۔ رضا ہسپتال، رضا لائبریری، رضا بازار، رضا میوزیم، غرض یہ کہ سچ پوچھیے تو مشہد میں مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے زندگی امام رضا کےگردگھومتی ہے۔ یہ پورا شہر حرم کے چاروں اطراف میں تعمیر ہوا ہے۔ یہاں کے ایک استاد محمد صادق نجفی کا کہنا تھا ہے کہ ایرانیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ بارہ سو برس قبل مشہد ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ اور دراصل یہ امام رضا کی یہاں شہادت اور قبر کی خیر و برکت اور دین ہے کہ اب یہ ایران میں تہران کے بعد دوسرے بڑے شہر بن چکا ہے۔ جو ایران کی معشیت میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اقتصادیات میں اسکی اہمیت اس رُخ سے اہم ہے کہ زائرین اور سیاحوں کی آمد یہاں کی بہت بڑی صنعت ہے۔ جس کی وجہ سے ایران کی مجموعی قومی پیداوار میں مشہد کی آمدنی کا دوسرا بڑا حصہ ہے۔ ایران آنے والے نوّے فیصد غیر ملکیوں کی ایران آمد کا مقصد روضہ امام کی زیارت ہوتا ہے۔ مشہد میں حرم کےعلاقے میں رات نہیں ہوتی۔ بازار رات بھر کھلے رہتے ہیں اور خریداری کی غرض سے زائرین اور سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے۔ حرم امام کے ارد گرد سینکڑوں کی تعداد میں ہوٹل اور سرائے ہیں جن میں تیس ہزار زائرین بیک وقت ٹھہر سکتے ہیں۔ مگر سال بھر یہاں گنجائش سے زائد زائرین مقیم ہوتے ہیں۔ جبکہ چھٹیوں میں رش زیادہ ہونے کے باعث اکثر ایرانی اپنے کیمپ ساتھ لاتے ہیں۔ مجھے بھی حرم کے باہر درجنوں کی تعداد میں خمیے لگے نظر آئے۔ کیونکہ جولائی میں ایران کے تعلیمی ادارے بند ہوتے ہیں۔ مشہد میں امامِ رضا کے روضےکی صدیوں پرانی اور طویل تاریخ ہے۔ کوئی ساٹھ ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا یہ ایک وسیع و عریض کمپلیکس ہے جس کی توسیع اور آرائش کا کام ہر دور حکومت میں ہوتا رہا اور جو اب بھی جاری ہے۔ یہیں دنیا کا وہ قرآن میوزیم ہے جس میں حضرت علی، امام حسین، امام حسن،
میں اپنے چند گھنٹوں کے قیام میں اس کمپلیکس کے صرف چند حصے دیکھ سکی۔ سیکیورٹی چیکنگ کے مراحل سے گزرنے کے بعد جب میں حرمِ امامِ رضا میں داخل ہوئی تو وہاں موجود دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے زائرین جس کا اندازہ ان کے لباس دیکھ کر ہوا اپنے اپنے انداز میں دُعا و مناجات اور ماتم و نوحہ خوانی اور با آواز بلند گریہ و زاری میں مصروف تھے۔ جس میں ہر عمر کے زائرین شامل تھے ۔ بلکہ مجھے لباس دیکھ کر لگا کہ ان میں کئی تو نو بیہاتا جوڑے تھے ۔ جس کی تصدیق بعد میں ان سے بات کرکے ہوئی کہ وہ اپنی نئی زندگی کا آغاز حرم کی زیارت سے کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے پہلے سے یہ بتادیا گیا تھا کہ ایک تو میں حرم کسی قسم کی سیاسی گفتگو سے اجتناب کروں دوسرے یہ کہ حرم کے اندر قبر امام تک پہچنا بلکل ناممکن ہوتا ہے۔ اگر آپ دھکے کھاتے کھاتے پہنچ جائیں تو اور بات ہے ورنہ آپ کو کوئی جگہ اور راستہ نہیں دے گا۔ میرے ساتھ بلکل ایسا ہی ہوا۔ سمجھ میں نہیں آتا اسے عقیدت کی انتہا کہا جائے یا نظم وضبط کا فقدان جو اکثر مسلمانوں کی عبادت گاہوں میں نظر آتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||