BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 July, 2005, 12:09 GMT 17:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تہران خوب است مگر!

ایران خواتین
’خواتین کے لیے سروں پر حجاب کرنا لازمی ہے‘
لندن سے تہران جانے والی برٹش ائیرویز کی فلائٹ نےکوئی سات گھنٹے کی پرواز کے بعد تہران سے چند میل دور بلندیوں سے نیچے کی سمت سفر شروع کیا تو دن کی روشنی میں کوہ البرزکی ڈھلوانوں پر آباد شہر تہران کے آثار واضح ہونے لگے اور پھرطیارے میں کپتان کی یہ آواز گونجی ’خواتین و حضرات ہم تھوڑی دیر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مہرآباد انٹر نیشنل ایر پورٹ پر اترنے والے ہیں‘۔

’یہاں شراب درآمد کرنے پر پابندی ہے اور خواتین کے لیے سروں پر حجاب کرنا لازمی ہے‘۔

یہ اعلان سن کر مسافر خواتین میں کچھ ہلچل سی ہوئی۔ ّ کسی نے کندھوں پر بکھری تراشیدہ زلفیں سمیٹیں اور سر پر سکارف باندھ لیا۔ تو کسی نے عبایہ پہنی، کسی نے چادر سر پرڈالی تو کسی نے محض ایک فیشنی سا سکارف پہننے پر ہی اکتفا کیا۔

اب جب میں نے اپنے اردگرد نظر دوڑائی تو جہاز میں موجود ہر خاتون باحجاب تھی۔ایئر پورٹ کی عمارت میں داخل ہوتے وقت فیشنی چپل پہنے ہوئےایک نوجون لڑکی نے شائد مجھے مکمل عبایہ میں دیکھ کریہ خیال کیا کہ میں ایرانی ہوں۔ مجھے اپنے کھلے پاؤں دکھاتے ہوئے مجھ سے جیسے مشورہ لینے کے انداز میں استفسار کیا ’اس طرح کھُلے پاؤں کوئی حرج تو نہیں‘؟

میں تو خود پہلی مرتبہ ایران آئی تھی اس لیے اُس خاتون کو کوئی واضح جواب تو نہ دے پائی لیکن بعد میں تہران میں کئی روز تک گھوم پھر کر اندازہ ہوا کہ تہران وہ شہر نہیں جس کے بارے میں لوگوں سے سُنا اور ٹیلی ویژن پر دیکھا ہے۔

یہاں کے اکثر فیشن ایبل علاقوں میں خواتین چست فیشنی کوٹ پہنے اور محض رسمی سکارف اوڑھے اور ٹخنوں سے اوپر جین میں بھی نظر آتی ہیں۔ البتہ مذہبی شہروں مشہد اور قم میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں عورتیں عموماً سیاہ چادر میں ملبوس ہوتیں ہیں۔

جہاز سے اُترنے سے لیکر امیگریشن سے نکلنے تک اور ائیرپورٹ سے نکل کر شہر پہنچنے تک مجھے پہلا تاثر یہ ملا کہ ایران میں عورت خواہ وہ حجاب میں تھی یا فیشنی سکارف میں، زندگی کے ہر شعبے میں فعال اور کئی مقامات پر سچ پوچھیں تو مجھے مردوں کی نسبت عورتیں زیادہ کام کرتی نظر آئی۔

تہران میں سڑکیں یورپ کی طرح بڑی اور خوب کھلی ہیں۔ مگر یہاں کی ٹریفک کے جس بے ہنگم پن کے بارے میں اب تک صرف سُنا تھا اب اُسکا براہ راست تجربہ بھی ہوا۔

سڑکوں پر کسی قسم کا نظم وضبط نظر نہیں آیا۔ بس یہ سمجھ لیجئے کہ بیس پچیس منٹ کے سفر میں کم ازکم تین چار مرتبہ ہلکی سی چیخ ہونٹوں تک آتے آتے رہ جاتی ہے۔

تہران ٹریفک
ٹریفک کے بے ہنگم ہونے کا ایک منظر

مگر تہران میں جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ سلامتی کی صورتحال تھی۔

میں نے رات گئے متعدد مرتبہ ٹیکسی میں تہران کے علاوہ مشہد اور قم میں بھی تنہا سفر کیا۔ کسی خوف کے بغیر اور وہ بھی بلکل انجان راستوں پر۔

ایران میں ٹیکسی ڈرائیورآپ کوغیر ملکی سمجھ کر آپ سے کئی گنا زیادہ کرایہ تو اکثر وصول کرلیتے ہیں مگریقینی طور پر منزل مقصود پر پہنچا کر۔

بلند و بالا پہاڑوں کے دامن میں واقع 14 ملین افراد کا شہر تہرانِ بزرگ بلا شبہ دنیا بھر کے بڑے بڑے میٹروپولیٹن شہروں میں سے ایک ہے۔

ائیرپورٹ سے ہوٹل کی طرف جاتے ہوئے سب سے پہلی بلند و بالا یادگار جو نظرآئی وہ چوک آزادی کا مینار تھا۔ جں کے بارے میں مجھے ٹیکسی ڈرائیور نے اپنی مل جلی فارسی اور انگریزی میں بتایا۔

تہران میں کسی بھی سمت سے داخل ہونے والے ہر شخص کی نگاہ اس مینار پر پڑتی ہے۔ 50 ہزار مربع میٹر کے رقبے پر بنایا گیا مغربی اور ایرانی فن تعمیر کا امتزاج یہ 50 میٹر بلند مینار 1971 میں سابق شاہ ایران نے خود تعمیر کروایا تھا۔

لیکن بعد میں اور خصوصا 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران یہی چوک عوامی مظاہروں کا یہ سب سے بڑا مرکز بن گیا ۔ اسی لیے بعد میں اسے آزادی چوک کا نام دے دیا گیا۔

ایران کے مرحوم و معزول شہنشاہ رضا شاہ پہلوی کے ملک بھر میں نو اور صرف تہران میں چار محلات ہیں جن میں سے کچھ کو عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

ان محلات کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ایک محل کے فقط ایک مختصر سے حصے کو دیکھنے کے لیے کم از کم نصف دن درکار ہے۔

ایران میں دو ہفتے قیام کے دوران کئی نوجوانوں سے بات ہوئی۔

ان میں سےاکثر عدم اطمینان کا شکار اور حالت اضطراب میں نظر آئے۔ خودایران کے سرکاری حلقے یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ایران میں کوئی چار ملین سے زیادہ نوجوان نشے کی لت میں یا تو مبتلا ہیں یا اس جانب راغب ہورہے ہیں۔

سیاسی رہنما اس کی مختلف تاویلات پیش کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہمسایہ ملک افغانستان میں سیاسی عدم استحکام اور افیون کی کاشت اور ریل پیل اس کی ایک اہم وجہ ہے ۔

جبکہ بقول ان کے امریکہ بھی ایرانی نوجوانوں کے اخلاق بگاڑنے اور انھیں نشے کا عادی بنانے کے لیے ان کی مالی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔

موجودہ نوجوان نسل انقلاب ایران کے وقت یا تو پیداہی نہیں ہوئی تھی یا پھر شعور کی حدود سے ابھی دور تھی۔

یہ لوگ حکومت پر تنقید بھی کرتے ہیں اور صدر خاتمی حکومت کی کارکردگی سے مایوس بھی نظر آتے ہیں۔

ہاشمی رفسنجانی کی بد عنوانی کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ مگر اسلامی انقلاب پرکھلم کھلا کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ کسی خوف کی وجہ سے یا پھرجذبہ قوم پرستی کے باعث۔

آزادی چوک
تہران میں کسی بھی سمت سے اس پر نگاہ ڈالی جا سکتی ہے

جذبہ وطن پرستی میں نے اس لیے کہا کہ ایک ستائیس سالہ ایرانی نوجوان کو انقلاب کا زمانہ ایک خواب کی طرح یاد ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ میں حکومت کوتو پسند نہیں کرتا لیکن اگر کسی نے ایران پر حملہ کیا تو میں یہاں سے سیدھا محاذ جنگ پر جاؤنگا۔

یوں لگتا ہے کہ یہ لوگ اسلامی انقلاب کے مقاصد اور اس وابستہ توقعات یعنی اقتصادی اور سیاسی استحکام کی عدم تکمیل خصوصاً وسائل کی غیر مساویانہ تقسیم پر مایوس اور مضطرب ہیں۔

یہ اضطراب کسی تعمیری تجربے سے ہمکنار ہوگا یا کسی تخریبی دھارے میں میں ڈھل جائیگا۔ آئندہ چند برس اس سلسے میں خاصے اہم ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد