ایران: احتجاجی بلاگروں میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران میں انٹرنیٹ پر بلاگ یا انٹرنیٹ لکھنے والوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے لیکن انٹرنیٹ کے بیشتر صارفین میڈیا پر حکومتی سنسرشپ کے خلاف احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے سینکڑوں صارفین نے اپنے بلاگز کو ان اخبارات اور ویب سائٹس کا نام دینا شروع کر دیا ہے جنہیں حکام نے بند کر دیا ہے۔ انہوں نے ان ویب سائٹوں کی خبریں اپنے ذاتی بلاگز میں لکھ کر انٹرنیٹ پر شائع بھی کرنی شروع کر دیں۔ کینیڈا میں ٹورانٹو یونیورسٹی کے طالب علم اور کافی عرصے سے بلاگ لکھنے والے حسین دراکھشک نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج بظاہر علامتی دکھائی دیا لیکن وہ ایرانی حکام پر واضح کرنا چاہتے تھے کہ ’وہ انٹرنیٹ کے سلسلے میں وہ قدم نہیں اٹھا سکیں گے جو انہوں نے میڈیا کے خلاف اٹھایا۔‘ انہوں نے لوگوں کے ردِ عمل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’سخت گیر ایرانیوں کی طرف سے مجھ پر کی گئی ذاتی تنقید اس بات کا ثبوت ہے کہ حکام کو بلاگ لکھنے والوں کی طرف سے کیے گئے احتجاج پر یقیناً پریشانی لاحق ہے۔‘ ایران میں اصلاح پسندوں کی تین ویب سائٹس امروز، روداد، اور بام داد کو حکام نے بلاک کر دیا تھا لیکن اس ماہ کے اوائل میں یہ ویب سائٹس مختصر شکل میں انٹر نیٹ پر دوبارہ دکھائی دیں۔ تاہم بعض اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام قومی انٹرنیٹ تشکیل دینے کے بارے میں سوچ بچار کر رہے ہیں۔ یہ سہولت صرف ایران میں میسر ہو گی اور اس کا باقی دنیا کے انٹرنیٹ سے تعلق نہیں ہو گا۔ اس اقدام کے باعث ایرانی صارفین صرف ان ویب سائٹوں کو دیکھ سکیں گے جن کی حکومتی سطح پر اجازت ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||