مٹی مٹی ہوگیا مٹی کا شہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میری انکھ کھلی تو میرے چاروں طرف اندھیرا تھا۔ زمین پر جیسے شدید کپکپی طاری تھی مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے کبھی میں ایک دیوار سے اور کبھی دوسری دیوارسے ٹکراتی ہوں۔ مجھے دنیا ختم ہوتی ہوئی لگ رہی تھی۔ میرے چاروں طرف ملبے میں دبے ہوئے لوگ تھے جن میں سے کچھ مدد کے لیۓ پکار رہے تھے۔ لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں انکی مدد کیسے کرؤں۔ایسی کتنی ہی آوازیں میرے سامنے آہستہ آہستہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں، یہ ایک چوبیس سالہ لڑکی فاطمہ کے الفاظ تھےجو دسمبر دو ہزار تین میں ایران کے شہر بام کے شدید زلزلےمیں موت کو بام کی گلیوں میں پھرتے ہوئے دیکھ چکی تھی۔ اور یہ سب کچھ بناتے ہوئے اس کی انکھوں میں ساون بھادوں اتر آئئ تھی۔ زلزلے سے تباہی کی یہ داستان ایران کے جنوب مشرق کےتاریخی شہر بام کی ہے جو کبھی ریشم اور حِنا کی پیداوار کے لیے مشہور تھا اور جہاں دنیا کا واحد مٹی کا تاریخی شہر اور قلعہ محفوظ کر لیا گیا تھا لیکن دسمبر دو ہزار تین کی ایک ہی رات کے چند لمحوں میں یہ ہنستا بستا شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو کر رہ گیا۔ ایک وقت میں یہاں کوئی نوے ہزار لوگ اس شہر میں بستے تھے لیکن دسمبر کی ایک یخ بستہ رات میں زلزلے سے تھرتھراتی زمین نے لگ بھگ ساٹھ ہزار افراد کو لقمہ اجل بنا دیا۔ تہران سے جب میں بام کے سفر کا ارادہ کر رہی تھی تو متعدد ایرانیوں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ میں اصفحان نصف جہان، شیراز اور کیش جیسے خوبصورت مقامات کی سیر کی بجائے بام کے زلزلے سے تباہ شدہ شہر کیوں جانا چاہتی ہوں۔یہ جان کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے بام کی تباہی کے یہ سب
مگر خود بام شہر میں زلزلے کی تباہ کاریوں سے بچ جانے والے اکثر لوگ ابھی تک ماضی کے سایے میں اور مختلف قسم کی اعصابی،جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ایسی ہی ایک خاتون نے مجھے بتایا۔ ’میں تو زندہ درگور ہوں نہ زندوں میں نہ مُردوں میں۔سب گھر والوں کو زلزلہ نگل گیا۔میرا تو کچھ بھی نہیں بچا۔دیکھو۔۔یہ دیکھو میرے کان کے پیچھے ابھی تک اس زلزلے کی نشانی یہ گھُسا ہوا پتھر ہے اور اس زلزلے کی خوفناک آواز میرے ساتھ ساتھ رہتی ہے’ میں نے اُس عورت کے کان کے پیچھے پتھر ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن وہاں کچھ نہیں تھا۔اب مجھے احساس ہوا کہ یہ خاتون زلزلے کے لمحات کے ساتھ زندہ ہے اور وہ دلدوز ساعتیں اُس کے قلب وذہن میں بسیرا کر چکی ہیں۔ زلزلے سے ہونے والی تباہی اتنے بڑے پیمانے پر تھی کہ امدادی جماعتیں بھی کچھ نہیں کر پا رہی تھیں۔امدادی جماعتیں اگرچہ چند ہی گھنٹے بعد علاقے میں پہنچ گئی تھیں لیکن ملبے تلے دبے لوگ کسی طبی امداد کے بغیر ہی مر رہے تھے۔ یہاں مجھے ایسی ہی ایک لڑکی یہ بتاتے ہوۓ رو پڑی کہ میں مدد کے لیے پکارتی تھی لیکن میری کوئی نہیں سنتا تھا۔ڈاکٹر کم اور مریضوں کی تعداد بہت زیادہ تھی میری ماں کو بھی طبی امداد نہ مل سکی اور وہ میری نظروں کے سامنے دم توڑ گئی’ میں نے بام شہر کے مختلف علاقوں میں دیکھا کہ تباہ شدہ گھروں کاملبہ ڈیڈھ برس گزر جانے کے باوجود ابھی بھی اُسی طرح پڑا ہے اور شہر کی تعمیرِ نوکا مرحلہ شاید ابھی آیا ہی نہیں۔نہ جانے اس شہر کو بسانے اور جدید عمارتیں بنانے کے وعدے کیا ہوئے۔ صحیح صورت جاننے کے لیے میں نے سرکاری اہلکاروں سے رابطے کی بہت کوشش کی لیکن کوئی بھی نہ مل سکاکیونکہ انتظامیہ کے زیادہ تر لوگ صوبہ کرمان میں رہتے ہیں۔ بام اسی کرمان صوبے کا ایک تاریخی شہر ہے۔ یہاں ہلالِ احمر کا عملہ جو سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر کی نگرانی کر رہا ہےاُس کے ایک اہلکار مسٹر جولا سے میری ملاقات ہوئی جنکا کہنا تھا کہ
میں نے مسٹر جولا سے منصوبے میں تاخیر کی وجہ جاننی چاہی تو انہوں نے اس صورت حال کو نہایت پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ تو فنڈز کی کمی ہے، کچھ ماہرین کی اور کچھ انتظامی مسائل ہیں۔ پھر شہر کی تعمیرِ نو کے لیے عالمی سطح پر مختلف ممالک نے رقم مہیا کرنے کے جو وعدے کیے تھے زیادہ تر اُن میں ابھی صرف وعدے ہی ہیں۔ شہر کے زیادہ تر علاقوں میں کوئی سڑک نہیں اور پانی و بجلی کا انتظام بھی نہایت ناقص ہے گویا انتظامی اور اقتصادی ڈھانچہ جیسے مفلوج ہو چکا ہے۔ شہر کی کچی اور برائے نام سٹرکوں پر چلتے چلتے میں مٹی کے اس تاریخی قلعے پر پہنچی جسے ارگِ بام کہا جاتا ہے اور اسی کے حوالے سے عالمی سطح پر اس شہر کی شناخت ہے ۔ یہ مٹی کا وہ صدیوں پرانا تاریخی شہر تھا جسے 1351 ہجری میں ایران کا قومی ورثہ قرار دے کر محفوظ کر لیا گیا تھا اور عوام کے لیۓ رہائش ترک کر دی گئی تھی۔ اسے ارگ بام کہا جاتا ہے۔ ارگ کا مطلب ہے نہایت مضبوط۔۔۔اور 6 مربع کلو میٹر پر پھیلے ہوئے اس شہر کی 18 میٹر بلند دیواریں کبھی واقعی بہت مضبوط ہوتی ہوں گی لیکن بام کے زلزلے نے انہیں زمیں بوس کر دیا۔ اور اب میرے سامنے شہر نہیں مٹی کا ایک ڈھیر تھا۔ زلزلے سے قبل اس ارگِ بام کا نقشہ اس طرح تھا کہ سارا شہر تو نیچے آباد تھا لیکن حکمران کا قلعہ اوپر پہاڑی پر تھا۔ پورے شہر کا ایک صدر دروازہ تھا جس سے تمام لوگ شہر میں داخل ہوتے ہوں گے۔ ارگِ بام کی تصاویر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اسے صدیوں پہلے بھی باقاعدہ منظم منصوبہ بندی سے بنایا گیا تھا اور جب یہ شہر آباد تھا تو مکمل ایران کے روایتی اور ثقافتی شہروں کی طرح تھا۔ میرے سامنے یونیسکو کے تعاون سے مختلف ملکوں کے آثار قدیمہ کے ماہرین اس تاریخی ورثے کوزلزلے سے پہلے کی صورت میں بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔
بام میں مقیم ایران کے معروف تاریخ دان اور محقق محمود توحیدی سے یہاں میری ملاقات ہوئی۔متعدد دیگر کتابوں کے علاوہ بام کے حوالے سے انکی کتاب ارگ نامہ آثار قدیمہ کی کتابوں میں اہم کتاب شمار ہوتی ہے۔ میں نے اُن سے پوچھا کی زلزلے تو یہاں اکثر آتے تھے اور یہ مٹی کا تاریخی شہر کئی صدیوں سے یہاں کھڑا تھا تو پھر ایسا کیا ہوا کہ اس زلزلے نے اسقدر تباہی مچائی۔ میرے اس استفسار پر محمود توحیدی نے بتایا کہ یہ بات تو درست ہے کہ کرمان جغرافیائی طور پر ایسا علاقہ ہے کہ جہاںاکثر زلزلے آتے ہیں لیکن دسمبر دو ہزار تین کے زلزلے کی نوعیت یہ تھی کہ اس کا مرکز بام شہر کے درمیان میں تھا جسکی وجہ سے اس پیمانے پر تباہی ہوئی اور اس تاریخی ورثے کو بھی نقصان پہنچا۔ اس تاریخی ورثے کی تعمیرِ نو اگرچہ نہایت دقت طلب کام ہے لیکن اسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ورنہ ایک پوری تاریخ ختم ہو جائے گی۔ محمود توحیدی تو اس صدیوں پرانی تاریخ کو بچانے کی بات کر رہے تھے اور میں ارگِ بام میں کھڑی سوچ رہی تھی کہ ایرانی حکومت کے وعدے کے مطابق اس شہر کے مکینوں کو کب انکے گھروں میں واپسی نصیب ہو گی جو آج تک زلزلے کی اُس خوفناک رات کے اثر سے نہیں نکلے اور اُسی تاثر کے ساتھ زندہ ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||