مصنوعی سیارہ کی تباہی کا سبب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آندھراپردیش سے گزشتہ 10 جولائی کو داغے گئے مصنوعی سیارے انساٹ 4 کی تباہی کی وجوہات پر تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں۔ یہ سیارہ آندھراپردیش کے جزیرہ سری ہری کوٹہ میں واقع خلائی مرکز سے داغہ گیا تھا اور لانچنگ کے کچھ ہی دیر بعد تباہ ہوگیا تھا- سٹیش دھون سپیس سنٹر کے سابق ڈائرکٹر کے نارائنا کی زیر قیادت 15 ماہرین کی ٹیم نے پتہ لگایا ہے کہ یہ مصنوعی سیارہ ایندھن کی سپلائی کو کنٹرول کرنے والے ایک آلے میں خرابی کے باعث میں تباہ ہواتھا- کمیٹی کی جو رپورٹ انڈین خلائی تحقیقاتی تنظیم اسرو کو پیش کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ اس مواصلاتی سیارے کوچھوڑنے کے لیئے جو جی ایس ایل وی راکٹ استعمال کیا گیا تھا اس کے چار بوسٹرز میں سے ایک میں یہ خرابی پیدا ہوگئی تھی۔ اس خرابی کے نتیجہ میں ضرورت سے زیادہ ایندھن سسٹم میں داخل ہوگیا اور اس کی وجہ سے ایک بوسٹر کی رفتار باقی تین بوسٹرس کی رفتار سے کہیں زیادہ بڑھ گئی جس سے ایک ایسا ردعمل پیدا ہوا کہ راکٹ اپنے مقررہ راستہ سے ہٹ گیا اور مصنوعی سیارہ سمیت خلیج بنگال میں جا گرا- اسرو کے سربراہ جی مادھون نائر نے بتایا کہ ایندھن کو باقاعدہ بنانے والا یہ آلہ ایک ایسی ہندوستانی کمپنی نے فراہم کیا تھا جو خلائی پروگرام میں اسرو کی حصہ دار ہے- دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین کی اس کمیٹی کی تحقیق کے مطابق راکٹ داغنے جانے کے تقریبًا 56 سکنڈ بعد تک بھی اس کے تمام سسٹم باقاعدگی سے کام کررہے تھے اور صرف ایک آلہ میں خرابی پیدا ہوئی تھی- جس کے نتیجہ میں سمندر میں گرنے سے پہلے ہی مصنوعی سیارہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا- اس جی ایس ایل وی راکٹ اور مصنوعی سیارے کی خرابی سے اسرو کو جو 250 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے ان میں سے 150 کروڑ روپے جی ایس ایل وی راکٹ کی تیاری پر اور 100 کروڑ روپے انساٹ 4 سی کی تیاری پر خرچ کیئے گئے تھے- اگر یہ مصنوعی سیارہ کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچ جاتا تو اس سے انڈیا میں مواصلات کے شعبہ میں خاص طور پر ٹیلی ویژن نشریات کی ڈائرکٹ ٹو ہوم سروسز میں ایک بڑا انقلاب آسکتا تھا- اس حادثہ کے باوجود بھی اسرو اپنے مستقبل کے منصوبوں اور حکمت عملی میں کوئی تبدیلی کرنا نہیں چاہتی- آئندہ سال جون میں ایک اور مصنوعی سیارہ داغنے کے لیئے بھی ایسا ہی جی ایس ایل وی راکٹ استعمال کیا جائے گا- ماہرین کی کمیٹی نے کہا ہے کہ جی ایس ایل وی ڈیزائن کا بہت مضبوط ہے لیکن اس نے سفارش کی ہے کہ راکٹ کی تیاری اور اس کے معائنے کے طریقہ کار کو مزید سخت کیا جائے- | اسی بارے میں خلا بازوں کے لیے راکٹ پر کھانا روانہ24 December, 2004 | نیٹ سائنس خلا بازوں کو خوراک پہنچ گئی26 December, 2004 | نیٹ سائنس ڈسکوری کے خلا میں قیام میں توسیع31 July, 2005 | نیٹ سائنس بھارت، امریکہ چاند کی کھوج میں09 May, 2006 | انڈیا ’ان سیٹ 4‘ لانچنگ کیلیئے تیار09 July, 2006 | انڈیا انسیٹ کی ناکامی پر اسرو ’اپ سیٹ‘11 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||