BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 July, 2006, 08:53 GMT 13:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ان سیٹ 4‘ لانچنگ کیلیئے تیار

انڈیا نے اب تک گیارہ مصنوعی سیارے خلا میں چھوڑے ہیں
انڈیا 10 جولائی یعنی پیر کو اپنا اب تک کا سب سے وزنی مواصلاتی مصنوعی سیارہ ’ان سیٹ 4 سی‘ خلا میں چھوڑے گا۔ 2170 کلو وزنی یہ اندرون ملک تیار مصنوعی سیارہ انڈیا میں ہی تیار کیئے گئے سیٹلائیٹ لانچ وہیکل یا دیوقامت راکٹ کی مدد سے آندھرا پردیش کے جزیرے سری ہری کوٹہ سے شام ساڑھے چار اور چھ بجے کے درمیان چھوڑا جائے گا۔

سری ہری کوٹہ خلیج بنگال میں آندھرا پردیش سے ملحق ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جو جغرافیائی اعتبار سے خلائی پروگراموں کے لیئے بہت موزوں ہے کیونکہ یہ خط استوا سے 13 ڈگری پر واقع ہے۔

یہ مصنوعی سیارہ بنگلور میں واقع اسرو سیٹلائٹ سینٹر نے تیار کیا ہے جبکہ اسے خلا میں چھوڑنے والے راکٹ کو وکرم سارا بھائی سپیس سینٹر تروننتاپورم نے بنایا ہے۔ یہ اپنی طرز کا چوتھا راکٹ ہے جو ہندوستان میں تیار کیا گیا ہے۔

سری ہری کوٹہ میں واقع انڈیا کے خلائی تحقیقاتی ادارے کے ستیش دھون سپیس سینٹر کے ذرائع کے مطابق سیارہ چھوڑنے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور اس میں ایندھن بھرنے کا کام شروع ہوگیا ہے۔

یہ لانچنگ اسرو کے لیئے کئی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔ اب تک مسلسل گیارہ مرتبہ مصنوعی سیارے کامیابی کے ساتھ خلا میں چھوڑنے کے بعد ہندوستانی ماہرین اس کوشش کے بارے میں بھی پراعتماد ہیں۔

اسرو
اسرو سینٹر میں دو لانچنگ پیڈ ہیں

اسرو چاہتا ہے کہ دنیا بھر میں مصنوعی سیارے چھوڑنے کی دو ارب ڈالر کی جو منڈی ہے اس میں اسے ایک قابل ذکر حصہ ملے۔ حکام اس معاملے میں فرنچ گیانا کے بعد سری ہری کوٹہ کو دنیا کا دوسرا بڑا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ سری ہری کوٹہ کے ڈائریکٹر ایم انّا ملائی کا کہنا ہے کہ اس مرکز میں عالمی سطح کی سہولتیں موجود ہیں جو کئی معنوں میں فرنچ گیانا سے بھی بہتر ہیں۔

اس سینٹر میں دو ایسے لانچنگ پیڈ ہیں جن سے سیٹلائیٹ چھوڑے جاسکتے ہیں۔ اس میں سے دوسرا لانچنگ پیڈ 5 مئی 2005 سے کام کررہا ہے اور اس نے اب تک دو مصنوعی سیارے چھوڑے ہیں۔

ڈاکٹر انا ملائی کا کہنا ہے کہ جو چیز سیٹلائیٹ لانچنگ کے میدان میں ہندوستان کو دوسروں پر سبقت دلاسکتی ہے وہ فرنچ گیانا کے مقابلے میں لانچنگ پر آنے والی تقریباً 30 تا 35 فیصد کم لاگت ہے۔

اب جو مصنوعی سیارہ چھوڑا جارہا ہے اس سے ہندوستان میں ٹیلیفونی مواصلات اور تجارتی مواصلات کے علاوہ ڈائریکٹ ٹو ہوم ٹیلیویژن نشریات میں بھی مدد ملے گی۔

اسی برس اسرو مزید تین مصنوعی سیارے چھوڑے گا جس میں انڈونیشیا کا سیٹلائیٹ ’لاپان‘ بھی شامل ہوگا۔ اسرو کی خدمات کے لیئے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی مانگ کے مدنظر انڈین حکام اس لانچنگ سینٹر میں سہولتوں میں مزید اضافے کا منصوبہ بنارہے ہیں جس پر پانچ سو ملین ڈالر خرچ ہوں گے اور لانچنگ پیڈز کی تعداد بڑھ کر چار ہوجائے گی اور چار ٹن وزنی سیٹلائیٹ تک بھی یہاں سے چھوڑے جاسکیں گے۔

ان ساری تیاریوں کا مقصد یہ ہے کہ انڈیا کا چاند پر انسان کو بھیجنے کا مشن اسی مرکز سے 2008 میں چھوڑا جاسکے گا۔ اس وقت انڈین خلائی سائنسدانوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

ساتھ ہی انڈین ماہرین 650 کلو گرام کا ایک ایسا مصنوعی سیارہ بھی بنانے کی کوشش کررہے ہیں جسے ایک مرتبہ خلاء میں بھیجنے کے بعد دوبارہ واپس حاصل کیا جاسکے گا کیونکہ اس میں ایسی صلاحیت ہوگی کہ زمین پر واپس گرتے ہوئے وہ ہوا کی رگڑ سے آگ نہیں پکڑے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد