خلا بازوں کے لیے راکٹ پر کھانا روانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک مال بردار خلائی گاڑی بین الاقوامی خلائی سٹیشن میں کام کرنے والے خلا بازوں کے لیے خوراک لے کر روانہ ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر خوراک کم ہو رہی تھی اور ہنگامی حالت میں مزید خوراک روانہ کرنا پڑی۔ خلائی سٹیشن پر اس وقت ایک روسی اور ایک چینی خلا باز موجود ہیں۔ ان دونوں کو خلائی سٹیشن پر دو ماہ ہونے والے ہیں۔ ضوابط کے مطابق اگر خلائی سٹیشن پر خوراک، پانی اور آکسیجن کا ذخیرہ اگلے پینتالیس دن کی ضروریات سے کم رہ جائے تو خلا بازوں کو سٹیشن چھوڑ دینا چاہیے۔ جمعہ کو قازقستان کے ایک خلائی مرکز سے ’پراگریس‘ نامی راکٹ اڑھائی ٹن پانی، خوراک اور آکسیجن لے کر خلائی سٹیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔ یہ راکٹ اتوار کو خلائی سٹیشن پر پہنچے گا۔ روسی اور امریکی حکام دسمبر کے شروع میں خوراک، پانی اور آکسیجن کے ذخیرے کی صورتحال دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق خلائی سٹیشن کے عملے کو ہنگامی حالت کے پیش نظر خوراک کم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ روسی خلائی ایجنسی کے حکام کے مطابق اگر خوراک لے کر جانے والا راکٹ وقت پر نہ پہنچا تو خلا بازوں کو مشن چھوڑنا پڑے گا۔ لیکن سپلائی لے کر جانے والے راکٹ کی قازقستان سے کامیاب پرواز کے بعد اس بات کا امکان کم ہو گیا ہے۔ خلائی سٹیشن پر طویل مشن کے لیے زمین سے ضروری اشیا کی مستقل فراہمی ضروری ہے۔ پراگریس نامی خلائی گاڑی اسی مسئلے کے حل کے لیے تیار کی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||