بالغوں کی فلموں پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عدالت کی طرف سے انڈیا میں کیبل اور ڈی ٹی ایچ کے ذریعے ٹی وی پر بالغوں کی فلمیں اور ویڈیو دکھانے پر پابندی لگانےکے فیصلے پر لوگوں میں ملا جلا رد عمل ہوا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے فلم چینلز سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ ناظرین میں بھی اس معاملے پر آراء منقسم ہیں۔ ۔ بعض نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے تو وہیں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ سنسر شپ کے مترادف ہے اور آزادی کے تصور کے منافی ہے۔ فلم ہدایت کار پرتیش نندی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سنسر شپ کو فروغ دے گا اور ہوسکتا ہے کل نیوز چینلز پر بھی کوئی پابندی لگا دی جائے۔ یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہو پائی ہے کہ بالغوں کی فلموں اور ویڈیو پر پابندی کا فیصلہ صرف مہاراشٹر پر نافذ ہوگا یا پورے ملک میں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے کا اطلاق پورے ملک میں ہوگا۔ پابندی سے متاثر ہونے والے کیبل آپریٹروں کا فلم کی تقسیم یا ڈسٹری بیوشن مارکیٹ میں بڑا حصہ ہے لیکن وہ اس بات سے خوش بھی ہیں کہ عدالت کی یہ پابندی ڈی ٹی ایچ پر بھی عائد کی جائے گي۔ کاروباری لحاظ سے ڈی ٹی ایچ اور کیبل آپریٹرز کے درمیان مقابلہ سخت ہے۔ انگلش فلم دکھانے والے چینل عدالت کے اس فیصلے سے کافی ناخوش ہیں۔ جمعرات کے روز متاثرہ چینلز کے مالک ایک میٹنگ کر رہے ہیں جس میں وہ فیصلہ کریں گے کہ ان کی آئندہ کی حکمت عملی کیا ہوگی ۔ ایچ بی او، اسٹار موویز، اور زی اسٹوڈیو جیسے چینلز عدالت کے اس فیصلے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایک سماجی کارکن نے عدالت میں عرضي پیش کی تھی جس میں کہاگیا تھا کہ ٹی وی پر بالغ فلمیں اور میوزک ویڈیوز دکھانے سے نابالغ بچوں پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ عدالت نے مفاد عامہ کی اس عرضي کے تحت کیبل آپریٹروں اور ڈی ٹی ايچ پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد پولیس نے بعض کیبل آپریٹروں کے ہاں چھاپے بھی مارے تھے۔ عدالت کے اس فیصلے سے ناراض کیبل آپریٹروں نے پیر اور منگل کے دن ہڑتال کا اعلان کیا جس دوران ٹی وی پر کوئی پروگرام نہیں دکھائے گئے۔ کیبل آپریٹروں کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کہ کون سی فلم کس وقت دکھائی جائےگی وہ نہیں بلکہ ٹی وی چینلز کرتے ہیں۔ عدالت کے فیصلے سے بعض ٹی وی شائیقین کافی خوش ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اب گھر کے تمام افراد ایک ساتھ مل کر ٹی وی دیکھ سکتے ہیں۔ جبکہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ٹی وی پر بالغ پروگرامز رات کے گیارہ بجے کے بعد ضرور دکھاۓ جانے چاہئیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عدالت کے فیصلے کے تحت انگلش چینلز پر دکھائی جانے والی ساری فلمیں ہندوستانی سنسر بورڈ کے دیکھنے کے بعد ہی ٹی وی پر دکھائی جائیں گی جس میں کم از کم چھ مہینے لگ سکتے ہیں ۔ |
اسی بارے میں لالی وڈ: اور پھرٹی وی آگیا!19 March, 2006 | فن فنکار نیپکن کا تکیہ اور بھارتیوں کیلیے ویاگرا اور بالغ فلمیں 25 December, 2005 | انڈیا کیااخبار صرف بالغوں کیلیے ہیں؟ 18 August, 2005 | انڈیا زی ٹی وی، ماڈلز: عریانیت کا مقدمہ 30 June, 2006 | انڈیا کیبل آپریٹر: شدت پسندوں کی اجازت15 May, 2006 | انڈیا سرینگر میں کیبل ٹی وی دوبارہ بند12 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||