ملزمان وکیلِ صفائی سے محروم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیارہ جولائی کے ممبئی بم دھماکوں کے مشتبہ ملزمان کے دفاع کے لیئے اب تک کوئی وکیل سامنے نہیں آیا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی سکواڈ ممبئی بم دھماکوں کی تفتیش کر رہا ہے اور اس نے اب تک دس ملزمان کوگرفتار کیا ہے۔ ان ملزمین کو دو مرتبہ عدالت میں پیش بھی کیا جا چکا ہے لیکن ابھی تک گرفتار شدہ افراد کے لواحقین کو ان کا مقدمہ لڑنے کے لئے کوئی وکیل نہیں ملا ہے۔ کئی ملزمان کے رشتے داروں اور اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس وکیل کرنے کے لیئے رقم نہیں ہے جبکہ یہ خیال بھی کیا جا رہا ہے کہ راج ٹھاکرے کی مبینہ دھمکی کے بعد شہر میں وکلاء کو خوف لاحق ہے۔ شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کے بھتیجے راج ٹھاکرے نے اپنی پارٹی نو نرمان سینا کی ایک ریلی میں چند روز قبل کہا تھا کہ جب بھی اس طرح کے دھماکے کے ملزمان گرفتار ہوتے ہیں تو انہیں بڑی آسانی سے کیس لڑنے کے لیئے وکیل مل جاتے ہیں اور وہ بری ہو جاتے ہیں اس لیئے اب ’بم دھماکوں کے ملزمان کا کیس لڑنے والے وکلاء کو ہم دیکھ لیں گے‘۔ راج ٹھاکرے کے اس بیان کے بعد ’انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف پیپلز لائرز‘ اور ’کمیٹی فار پروٹیکشن آف ڈیموکریٹک رائٹس‘ کے صدر پی اے سباستین نے مہاراشٹر کے ایڈوکیٹ جنرل کو ایک خط لکھا ہے جس میں راج ٹھاکرے کے بیان کو عدالتی توہین قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سباستین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دستورِ ہند نے ہر شہری کو آزادی دی ہے کہ وہ اپنے دفاع میں اپنی پسند کا وکیل مقرر کرے، پھر جب تک کوئی ملزم عدالت کے سامنے مجرم ثابت نہیں ہو جاتا تب تک وہ بے گناہ ہے اور ایک بےگناہ کا کیس لڑنے سے کوئی کسی کو روک نہیں سکتا‘۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا ہے لیکن انہیں جواب ملنے کی پوری امید ہے۔ راج ٹھاکرے کے بیان سے ممبئی میں وکلاء میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ایڈوکیٹ سعید اختر نے اس طرح کی بیان بازی کو انصاف اور قانون کے نظام کے ساتھ ایک مذاق قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق’بار کونسل آف انڈیا اور مہاراشٹر بار کونسل کے اصول و ضوابط میں لکھا ہے کہ ہر ملزم کو اپنا وکیل منتخب کرنے کا حق حاصل ہے اور وکیل کو اپنی ذاتی رائے اور نظریات کے اختلاف کے باوجود ملزم کا کیس لڑنا چاہیئے‘۔ سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچھالا نے راج ٹھاکرے کے بیان کو جنگل کا قانون قرار دیا ہے۔ ممبئی پولیس نے حال ہی میں پڑگھا کے علاقے سے منہاج ناچن نامی شخص کو غیر قانونی سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ منہاج ممنوعہ تنظیم ’سیمی‘ کا سابق رکن ہے۔ اس سے قبل پولیس نے ممبئی میں گھاٹ کوپر اور ملنڈ بم دھماکوں کے الزام میں بھی یہاں سے سات افراد کوگرفتار کیا تھا جس میں سے ایک ملزم ثاقب ناچن آج بھی جیل میں ہے ۔ اے ٹی ایس نے ایسے کئی افراد کو بھی گرفتار کیا ہے جو’سیمی‘ کے سابق رکن ہیں لیکن ان کا بم دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم اے ٹی ایس کا دعوٰی ہے کہ ان ملزمان سے تفتیش کے بعد ہی بم دھماکوں کے سراغ ملنے کی توقع ہے۔ | اسی بارے میں ممبئی دھماکے:مسلم صحافی گرفتار31 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے، مزید دو افراد گرفتار 25 July, 2006 | انڈیا ’میرے بیٹے کا دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں‘24 July, 2006 | انڈیا ٹرین دھماکے: ممبئی سے ڈاکٹر گرفتار 24 July, 2006 | انڈیا ممبئی گرفتاریاں، سچ کیا ہے؟23 July, 2006 | انڈیا زندگی تھم گئی ہے18 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||