BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 July, 2006, 13:34 GMT 18:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چوالیس برس بعد درۂ ناتھولہ کھل گیا

درۂ ناتھولہ
راستہ کھلنے کے موقع پر ثقافتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا
ہندوستان اور چین کے درمیان زمینی راستہ’درّۂ ناتھولہ‘ چوالیس برس بعد تجارت کے لیئے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

باضابطہ طور پر درے کے کھولے جانےکے موقع پر ایک ثقافتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا جس میں دونوں ملکوں کے فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

سرحدی علاقے میں تیز بارش اور گھنے بادلوں کے باوجود اس موقع کو یادگار بنانے کے لیئے دونوں جانب سے سینکڑوں تاجر اور افسر جمع تھے۔ سکّم کے وزیرِاعلٰی ڈاکٹر پون چملنگ اور تبت کے چیئرمین چامہ پھنتسوک نے اس پروگرام میں شرکت کی۔

پون چملنگ کا کہنا تھا کہ اس راستے کو چینی سیاحوں کے لیے بھی کھلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ’سکّم اور تبت کے درمیان سیاحت کے بہت مواقع ہیں یہاں خوبصورت مناظر ہیں اور ایک ہمالیائی پیکج تیار ہو سکتا ہے۔ بھارت اور چین کو سیاحوں کے لیئے اس راستے کو کھولنے میں اب زیادہ تاخیر نہیں کرنی چاہیئے‘۔

درۂ ناتھولہ
دونوں جانب کے تاجروں کو تجارت کی غرض سے آنے جانے کے لیے خصوصی پاس جاری کیئے جائیں گے

سکّم کے وزیراعلی کا کہنا تھا کہ جس طرح بنگلہ دیش اور پاکستان کے ساتھ بس سروس شروع کی گئی ہے اسی طرح تبت کے لاشہ اور سکم کے گنگٹوک کے درمیان بھی بس سروس شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

حکومت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چھ جولائی دو ہزار چھ سے سکم میں چنگو میں واقع سرحدی منڈی اور تبت میں رکنگنگ کی منڈی کے درمیان تجارت شروع ہوگی۔ بیان کے مطابق دونوں جانب کے تاجروں کو تجارت کی غرض سے آنے جانے کے لیے خصوصی پاس جاری کیئے جائیں گے اور ابتداء میں انتیس اشیاء بھارت سے چین برآمد کی جائیں گی اور معاہدے کے تحت پندرہ چیزیں چین سے بھارت میں درآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔

چوالیس برس قبل اس علاقے میں دونوں ممالک کی فوجوں میں خونریز جنگ ہوئی تھی اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سنہ انیس سو باسٹھ کی بھارت چین جنگ کے بعد دونوں ملکوں میں تلخیاں بڑھ گئی تھیں لیکن فریقین کی کوششوں سے اب شکوک و شبہات میں کمی آئی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ درہ ناتھولہ کے کھلنے سے باہمی اعتماد و یقین میں اضافہ ہوگا اور اس سے دیگر سرحدی تنازعوں کو حل کرنے میں بھی مدد ملےگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد