BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 May, 2006, 09:11 GMT 14:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپریم کورٹ ڈاکٹروں پر برہم

ہڑتالی ڈاکٹر
ہڑتالی ڈاکٹروں کو توہینِ عدالت کا سامنا ہو سکتا ہے
انڈیا کی سپریم کورٹ نے اعلٰی تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقے کے لیئے سیٹیں مخصوص کرنے کی حکومتی تجویز کے خلاف احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے تئیں سخت رویہ اختیار کیا ہے۔

عدالت نے اعلٰی ذات کے ڈاکٹروں کو حکم دیا ہے کہ اگر جلد سے جلد انہوں نے اپنی ہڑتال ختم نہیں کی تو انہیں توہینِ عدالت کے معاملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پیر کے روز عدالت نے اعلٰی تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقوں کے لئےنشستیں مخصوص کرنے کی تجویز پر مرکزی حکومت سے وضاحت طلب کی تھی اور اعلیٰ ذات کے ڈاکٹروں سے عوام کے مفاد میں ہڑتال ختم کرنے کی بھی بات کہی تھی لیکن عدالت کے اس ہدایت کو نظرانداز کرتے ہوئے ڈاکٹروں نے اپنی ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ آج کا فیصلہ ان مریضوں کے حالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیا جا رہا ہے جو ہسپتالوں میں ہڑتال کے سبب شدید پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہيں۔

عدالت نے کہا کہ’ کل خاص طور پر عوام کے مفاد میں ہڑتال ختم کرنے کی بھی بات کہی گئی تھی لیکن نتیجہ اس کے برعکس رہا۔ عدالت اس وقت حکومت کی پالیسی کے بارے میں فکرمند نہیں بلکہ عام انسان کی پریشانیوں کے بارے میں زیادہ پریشان ہے‘۔

’عدالت عام لوگوں کے لیئے زیادہ پریشان ہے‘

عدالت نے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں حکومت کو ہڑتال کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

ادھر حکومت نے کوٹہ کے نفاذ کی نگرانی کے لیئے ایک 13 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریزرویشن کے معاملے کے تنازعہ کا جلد سے جلد حل نکالنے کی غرض سے اس کمیٹی کا پہلا اجلاس منگل کو ہوگا۔

مرکزي حکومت سرکاری امداد یافتہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آئندہ تعلیمی سال سے پسماندہ طبقوں کے لیئے 27 فیصد نشستیں مخصوص کرنا چاہتی ہے۔ ان اداروں میں 22.5 فیصد سیٹیں دلت اور قبائلی طبقے کے لیئے پہلےسے ہی مخصوص ہیں۔

اعلیٰ ذات کے ڈاکٹروں، انجینئروں اور دوسرے پیشہ ور طلباء پسماندہ ذاتوں کو ریزرویشن دیئے جانے کی تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ان کو خدشہ ہے کہ اس سے اعلی ذات کے طلباء کے لیے مواقع کم ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد