انڈیا:پسماندہ طبقے کےلیئے27 فیصدکوٹہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی حکومت نے آئندہ برس جون سے تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقے کے لیئے27 فیصد نشستیں مخصوص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان حکمراں متحدہ ترقی پسند محاذ اور لیفٹ فرنٹ کی رابطہ کمیٹی کی ایک اجلاس میں کیا گیا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر وزیر دفاع پرنب مکھرجی نے صحافیوں کو بتایا کہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں اس سلسلے میں ایک بل پیش کیا جائے گا۔ مسٹر مکھرجی کا کہنا تھا کہ ملک میں موجود سبھی طبقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کے جذبات اور ضروریات کے مدنظر حکومت نے مرکزی تعلیمی اداروں میں موجودہ نشستوں میں اضافے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انڈیا میں دلت اور قبائلی علاقے کے لوگوں کے لوگوں کے لیئے تعلیمی اداروں میں 22.5 فیصد نشستیں مخصوص ہیں۔ اور اب اؤ بی سی ( یعنی ہندو مذہب کی نچلی ذات اور معاشی طور پر پچھڑے افراد ) کے لیئے 27 فیصد سیٹیں مخصوص ہوں گی۔ حکومت کی طرف سے یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ملک کے کئی حصوں میں کوٹہ کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ دارالحکومت دلی سمیت ملک کے کئی شہروں میں میڈیکل طلباء ہڑتال پر ہیں۔ احتجاج کرنے والے کے خیال میں کوٹہ نافذ کیا تو تمام کالجوں کا معیارگھٹ جائے گا۔ ہڑتال کے سبب طبی خدمات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں اعلیٰ ذات کے لوگوں کی تعداد پچیس فی صد سے کم ہے لیکن ایک دلت رہنما ادت راج کا کہنا ہے کہ ’اسی فیصد ملازمتوں پر انہی نام نہاد اعلیٰ ذات کے لوگوں کا قبضہ ہے‘ | اسی بارے میں مذہبی بنیاد پر کوٹہ نہیں: عدالت21 September, 2004 | انڈیا مسلم کوٹہ: آئینی بینچ دیکھے گا04 January, 2006 | انڈیا کوٹے کے لیئے نئی کمیٹی مقرر17 May, 2006 | انڈیا کوٹہ: بہار کے وزیراعلیٰ کی مشکل20 May, 2006 | انڈیا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ21 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||