ماؤنواز شاعر ورا ورا راؤ گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں پولیس نے ماؤنوازوں کےحامی شاعر ورا ورا راؤ کو گرفتار کرلیا ہے۔ ریاستی حکومت نے دوروز قبل ہی باغی نکسلی گروپوں پر پابندی عائد کی تھی۔ حکومت نےترقی پسند ادباء کی ایک تنظیم ویراسم پر بھی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مسٹرراؤ کا تعلق اسی تنظیم سے ہے اور انہوں نے اسکے خلاف عدالت سے چارہ جوئی کرنے کو کہا ہے۔ جمعہ کےروز رات کے آخری پہر سادہ وردی میں پولیس کے دستے انکے گھر پہنچے لیکن انہوں نے پولیس کو دن میں آنے کے لیے کہا۔ بعد میں پولیس حکومت کے اس حکنامے کو لیکر انکے گھر پہنچی کہ ویراسم پر پابندی لگا دی گئی ہے اور انہیں گرفتار کر لیا گيا۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ ویراسم کا تعلق ماؤنواز کمیونسٹ پارٹی سے ہے۔ لیکن ویراسم نےاس سے انکار کیا ہے۔ مسٹر راؤ نے کہا ہے کہ وہ تنظیم پر پابندی اور اپنی گرفتاری کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔ مسٹر راؤ کو سنہ انیس سواسّی کے عشرے میں دو برس جیل میں رہنا پڑا تھا۔ ان پرحکومت کے خلاف جنگ چھیڑ نے کا الزام تھا۔ لیکن عدالت نے انہیں بری کردیا تھا۔ گزشتہ برس ورا ورا راؤ، ایک علاقائی لوک گلوکار غدر اور ویراسم کے چیف کلیان راؤ نےحکومت اور ماؤنوازوں کے درمیان مذاکرات میں اہم رول ادا کیا تھا۔ ان افراد کی کوششوں سے پہلی بار مانوازوں اور حکومت کے درمیان براہ راست بات چيت ہوئی تھی۔ لیکن جنوری میں بات چیت ناکام ہوگئی تھی۔ تب سے آندھرا پردیش کے نکسلی علاقوں میں ماؤنواز باغیوں کی کاروائیاں تیز ہوگئی ہیں اور آئےدن حملے میں ہوتے رہتے ہیں۔ پندرہ اگست یوم آزادی کے روز ایک نکسلی حملے میں اسمبلی کے ایک رکن سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے دوسرے ہی دن حکومت نے اس پر دوبارہ پابندی نافذ کردی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||