ہیجان انگیز فلم ’نیو‘ پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی بھارت کی ریاست تامل ناڈو کی ہائی کورٹ نےایک تمل فلم’ نیو' پر پابندی عائد کردی ہے۔ عدالت کاکہنا ہے کہ فلم محض شہوانی خواہشات بھڑکانے کے لیے ہے اس لیے ملک میں فلم کے پوسٹرز، نغمےاور اور اسکی نمائش نہیں ہونی چاہیے۔ کورٹ نے سینسر بورڈ کو بھی ہدایات دی ہیں کہ وہ اپناسرٹیفیکٹ واپس لے لے۔ تامل فلم’ نیو' گزشتہ برس ریلیز ہوئی تھی۔ فلم کے خلاف بہت سے سماجی کارکنان خاص کر خواتین نےاحتجاج کیا تھا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ فلم ’نیو‘ میں فحاشی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن فلم کے ہدایت کار ایس جے سوریہ نے اس طرح کی نکتہ چینیوں کو مسترد کردیا تھا۔ ایک خاتون وکیل نے فلم کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی دی تھی۔ دو ججوں نے فلم کو دیکھنے کے بعد اپنا فیصلہ سنایا۔ عدالت کاکہنا تھا کہ ’ فلم دیکھنے سے محض شہوانی خواہشات بھڑکتی ہیں اور فلم نوجوانوں کی جنسی حس بیدار کرنے کے لیے ہے‘۔ عدالت نے کہا کہ فلم کے مکالمے بھی ذومعنی ہیں اور اگر اس پر پابندی عائد نہیں کی گئی تو یہ تامل سنیما پر ایک بد نما داغ کے مانند ہوگا۔ فلموں میں بڑھتے جنسی مناظر کے حوالے سے ہندوستان میں آج کل اکثر بحث ہوتی رہتی ہے۔ ہدایات کاروں کا کہنا ہے کہ وہ نیا اور بولڈ سنیما امیج پیش کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پیسوں کے لیے ہدایات کار فلموں کے معیار مذکورہ فلم ایک آٹھ برس کے لڑکے کی کہانی پر مبنی ہے۔ اس لڑکے کے ہاتھ میں کسی سائنس داں کا کوئی بنا بنایا فارمولہ آجاتا ہے۔ اس فارمولے کے استعمال سےلڑکا رات میں بیس برس کا ہوجاتا ہے جبکہ دن میں وہ آٹھ برس کا ہی رہتا ہے۔ رات میں ایک جوان مرد کی حیثیت سے وہ ایک لڑکی سے شادی کرتا ہے اور باپ بن جاتا ہے۔ لیکن تب بھی وہ دن میں آٹھ برس کا ہی رہتا ہے۔ ہدایات کار کا کہنا تھا کہ اس نے لڑکے کے المیے کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ فلم کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فلم میں صرف جنسی پہلوؤں پر ہی زور دیا گيا ہے۔ انکے مطابق فلم میں بوس وکنار اور ہمبستری کے مناظر پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ فلم دیکھنے سے کوئی پیغام ملنے کے بجاۓ محض شہوانی خواہشات ابھرتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||