رفیق ذکریا انتقال کر گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کےممتاز اسلامی سکالر اور مصنف رفیق زکریا ممبئی میں انتقال کر گئے ۔ سنیچر کی صبح اپنی رہائش گاہ میں انتقال ہونے سے قبل انہوں نے کمر میں شدید درد کی شکایت کی تھی۔ 79 سالہ رفیق زکریا نے بھارت ، اسلام اور برطانوی سامراج پر بہت کچھ لکھا ہے۔ اس کے علاوہ وہ بھارت کی حکمران جماعت کانگریس سے بھی وابستہ رہے۔ یونیورسٹی آف لندن سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے ڈاکٹر زکریا نے اقوام متحدہ میں بھی بھارت کی نمائندگی کی تھی۔ ان کی کتابوں میں بھارت کے سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے بانی محمد علی جناح پر ریسرچ بھی شامل ہے اس کے علاوہ انہوں نے اس بارے میں بھی رسرچ کی تھی کہ آیا مہاتما گاندھی بھارت کی تقسیم کے لئے ذمہ دار تھے۔ ڈاکٹر زکریا کی کتاب ’کمیونل ریج ان سیکولر انڈیا‘ میں بھارت میں گجرات فسادات کے بعد بڑھتے فرقہ وارانہ جذبات اور نظریات کا جائزہ لیا تھا۔ گزشتہ ماہ ڈاکٹر زکریا نے بھارت میں حزبِ اختلاف کے رہنما لال کرشن اڈوانی کو پاکستان دورے کے دوران جناح کے بارے میں دئے گئے ان کے بیان پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ٹائمز اف انڈیا کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا’ جناح کو تاریخ رقم کرنے والا انسان بتا کر مسٹر اڈوانی نے درحقیقت دو قومی نظریہ ، بھارت کی تقسیم اور اس کے بعد ہونے والے تشدد کی حمایت کی ہے۔ ان کے لواحقین میں ان کی اہلیہ دو بیٹے ہیں اوران کے ایک بیٹے فرید نیوز ویک انٹرنیشنل میگزین کے مدیر ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||