لاٹھی پر پارلیمنٹ میں بحث | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاٹھی بھی کیا شے ہے! حال ہی میں اس موضوع پر ملک کی پارلیمنٹ میں بحث ہوئی تو لاٹھی کے حق میں بہار اور یو پی کے ممبروں نے دلچسپ دلیلیں دیں۔ گزشتہ ہفتہ ہندوستانی پارلیمان نے تعزیرات ہند کی دفعہ 144 میں تبدیلی لا کر لاٹھی کو اسلحہ کے زمرے میں شامل کرنے کا بل پاس کیا تو بہار اور یو پی میں اس پر کافی حیرت کا اظہار کیا گیا۔ پیر کے روز لاٹھی پر پارلیمنٹ میں باضابطہ بحث ہوئی اور بالاخر تسلیم کر لیا گیا کہ لاٹھی کو اسلحہ نہیں مانا جا سکتا۔ لاٹھی کے بارے میں بہت مشہور مثل ہے کہ جسکی لاٹھی اسکی بھینس۔ دو برس قبل جب لالو پرساد نے پٹنہ میں لاٹھی ریلی کا انعقاد کیا تھا تو لوگ بانس تک لیکر پہنچ گئے تھے اور کئی لاٹھیوں میں ایک ایک من تک تیل پلایا گیا تھا۔ اس وقت لالو پر تشدد کو فروغ دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔ مرکزی وزیر داخلہ شوراج پاٹل نے یو پی اور بہار کے ممبر پارلیمنٹ کی مخالفت کے بعد سیاسی جلسوں میں لاٹھی لیکر جانے پر پابندی عائد کرنے کے ضلع کلکٹروں کے اختیار کو واپس لینے کا مطالبہ تسلیم کر لیا۔ خود شوراج پاٹل نے دلیل دی کہ کوئی بزرگ لاٹھی لیکر چلتا ہے تو اسے مجرم نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے اپنی مثال دی اور پوچھا ’ کل کو میرے پیر میں چوٹ لگ جائے اور میں لاٹھی کے سہارے پارلیمنٹ آوں تو آپ مجھے مجرم مان لیں گے؟‘ لاٹھی کی تعریف ہو اور لالو کی پارٹی کے ممبر کچھ نہ کہیں، ایسا مشکل ہے۔ آرجے ڈی کے ایم پی نے یاد دلایا کہ مہاتما گاندھی لاٹھی لیکر ہی انگریزوں کے مقابلے میں کھڑے ہو گۓ تھے اور ملک کو آزاد کرا دیا۔ لالو نے اپنی لاٹھی ریلی کی مخالفت کے بعد کہا تھا کہ لاٹھی گاؤں والوں کا بےحد ضرروری ہتھیار ہے۔ بقوں لالو ’ لاٹھی سے لوگ رات کے اندھیرے میں کتوں اور چوروں کو بھگاتے ہیں۔ ندی پار کرنی ہو تو پانی کی گہرائی ناپنے کے لیے بھی لاٹھی کا استعمال کیا جاتا ہے۔‘ سماجوادی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ رام جی لال سمن نے کہا کہ سیاسی جلسوں میں لاٹھی ڈنڈوں میں ہی بینرز اور جھنڈے لگائے جاتے ہیں۔ انہوں نے مذاقاً پوچھا ’ کیا آپ چاہتے ہیں کہ جھنڈوں میں ڈنڈوں کے بدلے سرکنڈا ڈالا جائے؟‘ اس طرح لاٹھی ممنوعہ اسلحہ بننے سے بچ گیا ورنہ لوگوں کو اسکے لیےبی لائسنس کی ضرورت ہوتی۔ لاٹھی کے بارے میں کچھ اور کہاوتیں بھی مشہور ہیں۔ مثلاً ’ سانپ بھی مر جائےاور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے‘، ’بڑھاپے کی لاٹھی‘ اور ’لاٹھی مارے پانی جدا نہیں ہوتا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||