’الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر ریلوے لالُو پرساد یادو نے الیکشن کمشن کے دو اعلیٰ اہلکاروں سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر ریلوے نے الزام لگایا ہے کہ ان اعلیٰ افسروں نے گزشتہ سال انہیں پارلیمانی انتخابات میں ایک نشست سے ہرانے کی سازش کی تھی۔ ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرنے ہوئے انہوں نے دو الیکشن کمشنروں کی طرف سے ان کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو غلط قرار دیا۔ لالو پرساد یادو نے پارلیمان کی دو نسشتوں سے انتخاب لڑا تھا اور الیکشن کمشن نے چھاپڑا کی نشست سے ان کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا تھا۔ لالو پرساد یادو کے مخالف امیدوار راجیو پرتاب رُوڈی کی طرف سے وسیع پیمانے پر دھاندلی کی شکایات کے بعد الیکشن کمشن نے چھاپڑا کے حلقے میں دوبارہ ووٹنگ کا حکم دیاتھا۔ مسٹر لالو پرساد یادو کا یہ بیان مرکزی حکومت کے ایک اعلیٰ افسر ایل وی سپتھا رِشی کی طرف سے حکومت کو لکھے گئے ایک خط کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ دو الیکشن کمشنروں نے چھاپڑا کے انتخاب کو بی جے پی کی حکومت کے دباؤ کے زیر اثر کالعدم قرار دیا تھا۔ اس وقت مسٹر ایل وی سپتھا رِشی ایک انتخابی مبصر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ بھارتی الیکشن کمشن نے ابھی تک لالو پرساد یادو کی طرف سے لگائے گئے الزام پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ان الزامات کا جائزہ لینے کے لیے الیکشن کمشن کا اجلاس جلد ہی بلایا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||