انڈیا شائننگ کا نعرہ مناسب نہ تھا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی نے اعتراف کیا ہے کہ ’انڈیا شائننگ‘ ( جگمگاتے انڈیا) کی انتخابی حکمت عملی غلط تھی جس کی وجہ سے پارٹی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ انتخابات میں شکست کے بعد پہلے بیان میں سابق نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی نے کہا کہ ’انڈیا شائننگ‘ کا انتخابی نعرہ غلط نہیں بلکہ مناسب نہیں تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقابلے میں کانگریس
انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے ایل کے اڈوانی نے کہا کہ انتخابات میں کانگریس کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’انڈیا شائننگ‘ اور ’فیل گڈ‘ خوشگوار احساس کے نعروں نے در حقیقت بھارتیہ جنتا پارٹی کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ان کی جماعت بھارت کے غریبوں کو یہ باور کرانے میں ناکام رہی کہ پانچ سال کا عرصہ ہر شعبے اور ہر طبقے کی یکساں ترقی کے لیے کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے لیے یہ نتائج غیر متوقع تھے اور یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ان کے سیاسی حریف بھی ان نتائج کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی قیادت جانتی ہے کہ یہ ایک منقسم مینڈیٹ ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت اس کے مطابق کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے اور اب وہ مثبت حزب اختلاف کا کردار ادا کرئے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پارٹی اقتدار میں دوبارہ واپس آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ شکست ایک عارضی چیز ہے اور ان کی جماعت کا مستقبل تابناک ہے۔ انہوں نےکہا کہ بھارت کے تابناک مستقل کے بارے میں ان کے جو خواب ہیں ان کوشرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ان کی جماعت اقتدار میں واپس آئے گی۔ اڈوانی نے جو کہ ایک سخت گیر رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں کہا کہ انتخابی شکست نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندوتوا کی پالیسی کے بارے میں بھی ایک بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوتوا سے ان کی مراد قوم پرستی ہے جبکہ ان کے مخالفیں اسے ہندو قوم پرستی کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اپنی ہندوتوا کی پالیسی پر سختی سے کاربند رہے گی اور اس پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||