مشن جاری رہے گا: بی جے پی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر وینکیا نائیڈو نے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کی شکست کے ایک دن بعد نئی دلی میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں جو نتائج برآمد ہوئے ہیں وہ پوری طرح سے غیر متوقع ہیں اور پارٹی کی شکست کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لۓ بی جے پی کے کار کنان کی ہر سطح پر اجلاس بلائے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے نتائج کی امید تو میڈیا کو بھی نہیں تھی۔ پارٹی ایسے نتائج کی امید کیسے کرتی؟ اس موقع پر مسٹر نائیڈو نے کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں پر تنقید کی اور کہا کہ دونوں جماعتوں نے انتخابات ایک دوسرے کے خلاف لڑا ہے لیکن اقتدار کی غرض سے اب متحد ہوگۓ ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر نائيڈو نے کہا بھارتیہ جنتا پارٹی ایک سیاسی پارٹی ہے جس کے کچھ نظریات اور مشن ہیں جن میں کسی تبدیلی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔ ریاست گجرات میں پارٹی کی شکست پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے استعفی کے مطالبے پر مسٹر نائیڈو نے کہا کہ ریاست کیرالہ اور پنجاب میں کانگریس کو زبردست شکست ہوئی تو کیا کانگریس کے وزرائے اعلیٰ استعفیٰ دیں گے؟ کانگریس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں کہا کہ بی جے پی ایک نظریاتی سیاسی تنظیم ہے جو کسی ایک خاندان پر مشتمل پارٹی نہیں ہے۔ مسٹر وینکیا نے کہا ملک کے لئے بی جے پی کے بہت سے خواب ہیں جن کی تکمیل کے لۓ وہ جدوجہد کرتی رہیگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||