BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کابینہ کی تشکیل کے لئے مذاکرات
من موہن سنگھ
من موہن سنگھ کے لئے ایک مشکل مرحلہ ہے
ہندوستان کے نامزد وزیر اعظم من موہن سنگھ دہلی میں سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ کانگریس کی سربراہی میں بننے والی نئی حکومت میں کابینہ کی تشکیل پر اتفاق ہو سکے۔ کانگریس پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی بھی ان مذاکرات میں شامل ہیں۔

من موہن سنگھ علاقائی اور کمیونسٹ پارٹی کی مدد سے بنائی جانے والی مخلوط حکومت کے وزیرِ اعظم کے عہدے کا حلف ہفتے کی شام کو اٹھا رہے ہیں۔

وہ بھارت کے پہلے سکھ وزیرِ اعظم ہونگے۔

اس سے قبل سونیا گاندھی نے دہلی میں 1991 میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے اپنے شوہر اور سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کی یاد میں منعقد کی جانے والی ایک دعائیہ مجلس میں شرکت کی۔

دوسری طرف نامزد وزیرِ اعظم من موہن سنگھ اپنی کابینہ کی تشکیل کے نہایت کٹھن مرحلہ سے گذر رہے ہیں-

انہیں کانگریس پارٹی کے علاوہ انیس اتحادی جماعتوں کو بھی اپنی کابینہ میں نمائندگی دینے کا مسئلہ درپیش ہے اور کانگریس کی اتحادی جماعتیں بہتر سے بہتر وزارتوں کی تلاش میں ہیں۔

نامزد وزیرِ اعظم نےگزشتہ روز کابینہ کی تشکیل کے بارے میں کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی سے دو گھنٹے تک صلاح مشورہ کیا-

اس وقت نامزد وزیرِ اعظم اور سونیا گاندھی کے لئے مسئلہ یہ ہے کہ کس اتحادی جماعت کو کتنی وزارتیں دی جائیں، کس کو کونسی وزارت دی جائے، کس کو وفاقی وزیر بنایا جائے، کسے وزیرِ مملکت اور کسے ڈپٹی وزیر بنایا جائے۔

معلوم ہوا ہے کہ سب سے پہلا مسلہ راشٹریہ جنتا پارٹی کے رہنما لالو پرساد یادو کے اس مطالبہ پر پیدا ہوا ہے کہ انہیں کابینہ میں وزارت داخلہ دی جائے، لیکن کانگریس نے اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس پر لالو پرشاد ناراض ہو کر دلی سے پٹنہ چلے گئے۔

کانگریس کے دو سینیئر رہنماؤں نے انہیں منانے کی بھی کوشش کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت میں شمولیت پر غور کریں گے ۔ اس سے پہلے ان کا بیان تھا کہ وہ کانگریس کی حکومت کا حصہ ہوں گے۔

ان سب مشکلات کے باوجود کانگریس کے جنرل سیکریٹری آسکر فرنینڈس کا کہنا ہے کہ تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے کر لئے جائیں گے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ کانگریس کے رہنماؤں کے لئے کابینہ طے کرنے کا معاملہ اتنا گھمبیر ہے کہ سونیا گاندھی جو ماضی میں اپنے شوہر راجیو گاندھی کی برسی کے لئے تامل ناڈو جایا کرتی ہیں، اس مرتبہ دلی سے باہر نہیں جا سکیں اور انہوں نے دلی ہی میں ویر بھومی پر پھول چڑھائے۔

ادھر کانگریس کی اتحادی جماعت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ وزارتوں کے بٹوارے کے لئے کوئی فارمولا طے ہونا چاہیئے۔ کانگریس کے دوسرے اتحادیوں کا بھی کہنا ہے کہ سونیا گاندھی اور من موہن سنگھ بتائیں کہ وزارتوں کے بارے میں کس منصوبے کے تحت فیصلہ کیا جائے گا۔

جھارکھنڈ مکتی مورچہ پہلی ہی کہہ چکی ہے کہ وہ کوئلے ، توانائی اور سٹیل جیسی وزارتوں میں دلچسی رکھتی ہے۔ اسی طرح دوسری اتحادی جماعتیں بھی کانگریس سے اپنی مرضی کی وزارتوں کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد