لوگ آخر کیوں ووٹ ڈالیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دس مئی کو ہندوستان میں ہونے والے عام انتخابات کے آخری مرحلے کی پولنگ ہورہی ہے۔ اگر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی راج دہانی کو معیار مان لیا جائے تو پچھلے چوبیس گھنٹوں میں دہلی کی سڑکوں پر سیاح نما صحافی کے طور پر گھومتے ہوئے مجھے ہر وہ شے نظر آئی جو زندگی کا پتا دیتی ہو۔ کس چیز کی کمی محسو س ہوئی تو وہ تھی انتخابات کا روایتی جوش و خروش۔ میں نے سنا تھا کہ بھارت میں اب تک ہونے والے عام انتخابات کے دوران ووٹروں کا تناسب پچاس فیصدہ رہتا ہے۔ جس طرح کی فضا دہلی میں ہے اگر ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں بھی ووٹروں کا یہی موڈ ہے تو اس مرتبہ ووٹنگ کا تناست گزشتہ عام انتخابات کے مقابلے میں سب سے کم ہوگا۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی محسوس ہوتی ہے کس بھی سیاسی جماعت کا کوئی بھی نیتا کوئی بھی بھاشہ بول رہا ہو اس بھاشہ میں فرق کرنا عام آدمی کو پہلے سے زیادہ مشکل نظر آ رہا ہے۔ مثلاً بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی مستحکم حکومت کے قیام کے وعدے پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ کانگریس کہ رہی ہے کہ اس نے پندرہ برس پہلے ملک میں اقتصادی انقلاب شروع کیا۔ بی جے پی کہ رہی ہے کہ اس نے گزشتہ پانچ سالوں میں اس انقلاب کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔ ایل کے اڈوانی نے رت یاترا نکالی تو سونیا گاندھی نے روڈ شؤ کر ڈالے۔
بی جے پی مڈل کلاس سے کہہ رہی ہے کہ ہندوستان اس کے دور میں دمکنا شروع ہو گیا ہے۔ کانگریس شہروں کی اکتیس فیصد سے زیادہ کچی آبادیوں اور لاکھوں دیہاتوں میں رہنے والے ووٹروں سے یہ کہ کر ووٹ مانگ رہی ہے کہ پچھلے پانچ برس میں کس نے دمکتا ہوا بھارت کہیں دیکھا۔ اگر اٹل بہاری واجپئی اب تک ہزاروں ووٹروں کو ذاتی طور پر فون کر چکے ہیں تو سونیا گاندھی دور دراز کے دیہاتوں میں بہت سی بے سہارا خواتین کو گلے لگا چکی ہیں اور اپنی گاڑی میں بٹھا چکی ہیں۔ بولی وڈ کے علاوہ مقبول ٹی وی اسٹار بی جے پی اور کانگریس کی حمایت میں پسینے پسینے ہو رہے ہیں۔ بڑے سے بڑا نیتا سائیکل رکشوں پر بیٹھ کر کہیتوں میں کسانوں کے گلے میں بانہیں ڈال کر کچی آبادیوں میں ہاتھ سے پیالہ بنا کر پانی پیتے ہوئے فوٹو کھنچوا رہا ہے۔ مگر ووٹر کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ کس کو ووٹ دے اور آخر کیوں دے۔ دھرمیندر ، شنیل شیٹھی ، شبانہ اعظمی ، شتروگن سہنا، ونود کھنہ، لالو پرساد یادؤ ، نریندر موددی اور ٹی سیریل ساس بھی کبھی بہو تھی کی پوری ٹیم سمیت ہر ایک ستارے کے میدان میں اترنے کے باوجود ووٹر آخری کیوں 'اباسیاں' لے رہا ہے۔ اکتاہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اٹل بہاری واجپئ نےلکھنؤ کے جس حلقے سے انتخاب لڑا ہے وہاں صرف ساڑھے پینتیس فیصد ووٹروں نے پولنگ اسٹیشنوں پر جانے کی زحمت کی۔ رائے بریلی میں سونیا گاندھی کے حلقے میں بھی صورت حال کم وبیش یہی ہے۔ آج جس رکشے میں بیٹھ کر میں بی بی سی کےدہلی آفس پہنچا اس کے ڈرائیور سے میں نے اترتے وقت پوچھا کہ فیل گڈ فیکٹر کا کیا مطلب ہے کہنے لگا میٹر سے دس روپے زیادہ دے دو تمہاری بڑی مہربانی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||