بھارتی سیاستدانوں کے ’معلوم‘ اثاثے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے ذریعہ عوامی نمائندگی کے خواہش مند افراد کے لئے اپنے اثاثہ کے اظہار کو لازمی قرار دیئے جانے کے نتیجے میں ہندوستان عوام کو پہلی بار اپنے صاحبِ ثروت سیاست دانوں کو جاننے کا موقع ملا ہے۔ موجودہ عام انتخابات کے دوران مختلف جماعتوں کے امیدواروں کے اس سلسلے میں جو حلف نامے داخل کئے ہیں ان کے مطابق اچھے خاصے لوگ کروڑ پتی ہیں اور امیدواروں کی تعداد گنتی سے باہر ہے۔ پارلیمانی الیکشن کے لئے دائر حلف نامہ کہ مطابق ریاست ناگالینڈ کی واحدلوک سبھا سیٹ کے آزاد امیدوار نمتھو نگولو تھا ہندوستان کے سب سے امیر امیدوار ہیں۔ مسٹر لوتھا کے مطابق وہ ضلع ووکھا میں پندرہ مربع کیلو میٹر زمین کے مالک ہیں جس کی قیمت نو ہزار کروڑ روپے ہیں۔ مسٹر لو تھانے اپنی زمین کی قیمت ضلعی انتظامیہ کے مطابق کچھ زیادہ ہی لگائی ہے۔ دوسرے سب سے امیر امیدوار میسور کے سابق شاہی خاندان کے چشم چراغ اور پچھلی لوک سبھا کے رکن مسٹر شری کانت دتانرسنگھ راجہ واڈیار ہیں۔ انھوں نے اپنی ملکیت میں میسور اور بنگلور کے دو محلات کے علاوہ بھی چند شاہی رہائش گاہوں کو دکھایا ہے۔
ریاست کرٹک کے وزیر اعلیٰ ایس ایم کرشنہ نے تقریباً اٹھارہ کروڑ کے اثاثوں کا اظہار کیا ہے۔ نہایت ہی نچلی ذات ذاتوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی یو پی کی بہو جن سماج وادی پارٹی کی لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ مس مایا وتی تقریباً دس کروڑ کے اثاثہ کی مالکن ہیں۔ آندھرا پردیش کے وزیرِاعلیٰ مسٹر چندراہا بونائیڈو خود تو ڈیڑھ کروڑ روپے کے مالک ہیں مگر ان کی اہلیہ تقریباً ساڑھے انیس کروڑ کی ملکیت ہے۔ بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ لالو پرساد کے پاس ساڑھے پانچ لاکھ روپے کی بینک ڈپازٹ ہے اور ان کے نام سولہ لاکھ کا ایک مکان بھی ہے۔ ان کی اہلیہ اور وزیرِ اعلیٰ رابڑی دیوی کی ملکیت بھی کافی دلچسپ ہے۔ ان کے نام سولہ لاکھ روپے ہیں۔ اس کے علاوہ رابڑی نے سترہ لاکھ کی زمین کے علاوہ پچاس گائیں اور اکتیس بچھڑے ہیں جن کی قیمت سوا پانچ لاکھ روپے ہے۔ اس کے علاوہ رابڑی دیوی نے تقریباً چار لاکھ روپے بینکوں میں جمع کر رکھے ہیں اور ان کے زیورات کی قیمت ڈھائی لاکھ ہے۔ یو پی کے وزیرِ اعلیِ مسٹر ملائم سنگھ کی ملکیت ایک کروڑ روپے سے اوپر ہے۔
کانگریس کی صدر مسز سونیا گاندھی نے الیکشن کمیشن کو بتایا ہے کہ وہ تقریباً پچھتر لاکھ کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ کی مالکن ہیں۔ ان کے بیٹے اور امیٹھی سے لوک سبھا کے امیدوار راہل گاندھی کے مطابق ان کا بینک ڈپاٹ گیارہ لاکھ ہے جبکہ سات لاکھ روپے انہوں نے بازار حصص میں لگا رکھے ہیں۔ جو بات ہندوستان کی عوام کے لئے خاصی دلچسپی کا باعث ہو سکتی ہے وہ ہے بیرونِ ملک کے بنکوں میں جمع ان کے پینسٹھ ہزار ڈالرز۔ فلم اسٹار اور کانگریس کے امیدوار سنیل دت اپنی برادری میں سب سے امید سے ہیں۔ ان کے پاس بائیس کروڑ کی ملکیت ہے۔ ایک اور مشہور فلم اسٹار دھرمیندر نے اپنی اور بیوی ہیمامالنی کی کل ملکیت چار کروڑ بتائی ہے۔ اثاثوں کے متعلق حلف نامہ میں ہر امیدوار نے اپنی اور اپنی اہلیہ کی منقولہ اور غیر منقولہ ملکیت کا اظہار لازمی ہے۔ اس میں نقد، بینک ڈپازٹ، بانڈز اور شئیرز، دیگر بچت، موٹر گاڑی، زیورات اور بقیہ اثاثوں کے علاوہ زرعی اور غیر زرعی زمین، رہائشی یا تجارتی مقاصد کے لئے تعمیر یا حاصل شدہ عمارتوں اور ان کی قیمت کا اظہار ضروری ہے۔ اثاثوں کے متعلق ان حلف ناموں سے بعض دلچسپ باتیں قابل غور ہیں۔ مہنگی کاروں کے شوقین پاکستانی سیاست دانوں کے لئے یہ امر باعث تعجب ہو سکتا ہے کہ وزیرِ اعظم واجپئی کے پاس محض ایک کار ہے۔ وہ بھی دس سال پرانی ایمبیسڈر۔ حلف ناموں کے مطابق ڈپٹی پرائم منسٹر لال کرشنا اڈوانی، لوک سبھا کے سابق اسپیکر منوہر جوشی، وزیر دفاع جارج فرنانڈس اور پٹرولیم کے وزیر رام نائک کے پاس تو کوئی گاڑی ہے ہی نہیں۔ ان حلف ناموں سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ بھارتی سیاست داں بچت کرنے میں کافی ماہر ہیں اور بازار حصص کے یہ اچھے کھلاڑی ہیں مثال کے لئے مسٹر اڈوانی کے پاس ساڑھے چار لاکھ کے آئی سی آئی سی آئی اور ساٹھ ہزار روپے کے آئی بی ڈی آئی کے بانڈز ہیں۔ چند معروف سیاست دانوں کو چھوڑ کر عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ کا ان حلف ناموں میں دولت کا اظہار حقیقت سے کافی بعید ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ایسے امیدواروں کی تعداد کافی ہے جن کی منقولہ دولت اور ان کے طرز رہائش اور زیبائش میں کوئی مناسب نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||