محبوبہ کےخلاف کارروائی کی جائے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے الیکشن کمیشن نے ریاست جموں و کشمیر کی پولیس کو کہا ہے کہ وہ ریاست کے وزیراعلٰی کی بیٹی محبوبہ مفتی کے خلاف ایک خاتون کو حراساں کرنے کے سلسلے میں کارروائی شروع کر دیں۔ محبوبہ مفتی نے جو پیلپز ڈیموکریٹک پارٹی پی ڈی پی کی صدر ہیں، پچھلے ہفتے ووٹنگ کے لئے آئی ہوئی ایک خاتون کا نقاب اتار دیاتھا۔ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ان کو شک تھا کہ ووٹنگ میں گڑبڑ ہورہی ہے اور وہ اس خاتون کی شناخت کرنا چاہتی تھیں۔ لیکن اس واقعے کے بعد سے عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آرہا ہے۔محبوبہ مفتی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعلٰی کی بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ پی ڈی پی (PDP) کی ایک طاقتور علامت کے طور پر بھی دیکھی جاتی ہیں۔ یہ متنازعہ واقعہ چھبیس اپریل کو اس وقت ہوا جب کشمیر کے ایک اہم پارلیمانی حلقے سری نگر میں انتخابات جاری تھے۔ محبوبہ مفتی برن ہال سکول میں قائم پولنگ بوتھ میں داخل ہوئیں جو سونوار کے انتہائی حفاظتی علاقے میں واقع ہے۔ وہاں انہوں نے ایک خاتون ووٹر کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ’کتنے پیسے ملے ہیں تمہیں یہ جعلی ووٹ ڈالنے کے؟‘ یہ سوال انہوں نے برقعے میں ملبوس ایک خاتون سے کیا جو ان کے خیال میں ایک جعلی ووٹر تھیں۔ اس سہمی ہوئی خاتون نے محبوبہ مفتی کے سوال کے جواب میں کہا ’میڈم پلیز ایسا نہ کریں۔ میں جعلی ووٹر نہیں ہوں‘۔ محبوبہ پولنگ بوتھ میں اپنے ذاتی مسلح محافظوں کے ساتھ داخل ہوئیں۔ انہوں نے اس خاتون کے چہرے سے برقعے کا نقاب کھینچ کر ان کا چہرہ ظاہر کر دیا۔ یہ خاتون جو پولنگ سٹیشن میں اپنے کچھ رشتے داروں کے ساتھ ووٹ ڈالنے آئی تھی۔ اس واقعے کے بعد ان کے پاس ووٹ ڈالے بغیر گھر واپس جانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ یہ سارا ڈرامہ بھارت کی ٹیلی ویژن نیوز ایجنسی فلم بند کرتی رہی اور پی ڈی پی (PDP) کے نہ چاہنے کے باوجود یہ فلم اپنے چینل پر مسلسل چلاتی رہی۔ پی ڈی پی (PDP) کے لیے اس سے زیادہ شرمندگی کی بات اور کیا ہوگی جب یہ ثابت ہو گیا کہ یہ خاتون پی ڈی پی (PDP) کی صدر کی طرف سے کئے جانے والے شبہے کے برعکس ایک اصلی ووٹر تھی۔ ان خاتون کا نام شبنم ہے۔ اور وہ سری نگر میونسپلٹی کے وارڈ 2 کے پولنگ بوتھ سیریل نمبر 1340 ہیں ایک رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔ شبنم اپنا ایک بھائی شوکت گلکر انیس سو نوے میں علیحدگی پسند تشدد کے نتیجے میں گنوا چکی ہیں۔ ’میں برقعہ اپنی شناخت چھپانے کے لیے پہنے ہوئے تھی۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ کشمیر میں بھارتی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا کیا مطلب ہوتا ہے‘۔ انہوں نے اس نامہ نگار کو بتاتے ہوئے کہا۔ حیرت انگیز طور پر جب مقامی پولیس ملٹینگ کے علاقے میں واقع ان کے گھر تفتیش کے لیے آئی تو انہوں نے گھر کو باہر سے تالا ڈالا ہوا تھا۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کے انہیں ڈر تھا کہ علیحدگی پسند انہیں ہلاک کرنے آ رہے ہیں۔ محبوبہ مفتی کے سیاسی مخالف، ریجنل نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابقہ بھارتی وزیر مملکت برائے خارجی امور عمر عبداللہ نے جو سری نگر سے الیکشن لڑ رہے ہیں، بھارتی الیکشن کمیشن کو اس واقعے کی وڈیو فلم پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ محبوبہ مفتی کے خلاف بھارتی الیکشن قوانین کی خلاف ورزی اور ایک خاتون ذاتیات پر کھلے عام حملہ کرنے پر کاروائی کی جائے۔ انتخابی قوانین کے مطابق کسی کو بھی بغیر اجازت پولنگ بوتھ میں داخلے کی اجازت نہیں ہے اور کسی بھی صورت میں پولنگ بوتھ میں مسلح محافظوں کا داخلہ منع ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا ’اگر انہیں (محبوبہ مفتی کو) ووٹر کی شاخت پر شبہ تھا تو وہ پولنگ بوتھ میں پریزاٹینڈنگ آفیسر سے رابطہ قائم کر سکتی تھیں۔ انہیں یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ ووٹروں کو ڈرا دھمکا کر ان میں خوف و ہراس پھیلائیں ۔ ہم نے تمام معلومات الیکشن کمیشن کو مہیا کر دی ہی اور امید کرتے ہیں کہ وہ انہیں خاطر خواہ سزا دیں گے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||