BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 May, 2004, 09:33 GMT 14:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واجپئی کی رفقاء سے مشاورت
واجپئی اور بی جے پی کے صدر ونکایا نائڈُو
بھارت میں انتخابات کے آخری مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں اور وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی صورتحال کے جائزے کے لئے اہم رفقاء سے مشورے کر رہے ہیں۔

ملک بھر میں ووٹوں کی گِنتی دس مئی کو انتخابات کا آخری مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اگلی جمعرات کو ہوگی۔

بدھ کے روز واجپئی کے انتخابی حلقے سمیت ملک کی سات ریاستوں میں پھیلے جن تراسی حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے تھے وہاں ووٹ ڈالنے کی شرح پچاس سے پچپن فیصد رہی۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اننتناگ کا واحد حلقہ تھا جس میں سولہ فیصد ووٹ ڈالے گئے۔

دریں اثناء انتخابی تجزیوں کی مطابق ملک میں حکمران اتحاد کے واضح برتری حاصل کرنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو بی جے پی کو آزاد ارکان اور چھوٹی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانا پڑے گا۔

آخری مرحلے میں دارالحکومت دِلّی، بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو اور اُترپردیش میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔

مُبصرین کے مطابق پیر کے روز بی جے پی کے لئے ضروری ہے کہ ان کی اتحادی جماعتیں ان ریاستوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔

نامہ نگارو ں کے مطابق بظاہر ابتدائی مراحل میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس نے توقع سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

پہلے چار مراحل میں لوک سبھا کی پانچ سو تینتالیس میں سے تین سو اکسٹھ نشستوں پر ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد