واجپئی کی رفقاء سے مشاورت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں انتخابات کے آخری مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں اور وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی صورتحال کے جائزے کے لئے اہم رفقاء سے مشورے کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں ووٹوں کی گِنتی دس مئی کو انتخابات کا آخری مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اگلی جمعرات کو ہوگی۔ بدھ کے روز واجپئی کے انتخابی حلقے سمیت ملک کی سات ریاستوں میں پھیلے جن تراسی حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے تھے وہاں ووٹ ڈالنے کی شرح پچاس سے پچپن فیصد رہی۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اننتناگ کا واحد حلقہ تھا جس میں سولہ فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ دریں اثناء انتخابی تجزیوں کی مطابق ملک میں حکمران اتحاد کے واضح برتری حاصل کرنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو بی جے پی کو آزاد ارکان اور چھوٹی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانا پڑے گا۔ آخری مرحلے میں دارالحکومت دِلّی، بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو اور اُترپردیش میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ مُبصرین کے مطابق پیر کے روز بی جے پی کے لئے ضروری ہے کہ ان کی اتحادی جماعتیں ان ریاستوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ نامہ نگارو ں کے مطابق بظاہر ابتدائی مراحل میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس نے توقع سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پہلے چار مراحل میں لوک سبھا کی پانچ سو تینتالیس میں سے تین سو اکسٹھ نشستوں پر ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||