بھارت: ووٹنگ کا دوسرا مرحلہ جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں جاری انتخابات کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں تشدد کے باعث کم از کم چھ افراد کے ہلاک اور ساٹھ سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بھارت کے عام انتخابات کے دوسرے اہم مرحلے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد سترہ کروڑ پچاس لاکھ ہے۔ ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں بھارت کی کئی اہم ریاستوں میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں جن میں شمالی ریاست اترپردیش بھی شامل ہے۔ ریاست اتر پردیش میں غازی پور کے علاقے میں واقع پولنگ سٹیشن میں مخالفین کے درمیان ہو نے والی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔ غازی پور بھارتی ریاست بہار کی سرحد پر واقع ہے اور پُرتشدد انتخابات کے لئے جانا جاتا ہے۔ ادھر آندھراپردیش پولیس کے مطابق پیر کو جاری ووٹنگ کے دوران حیدر آباد کے جنوبی گاؤں رومپیچرلہ میں حریف سیاسی جماعتوں کے حامیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں ایک دستی بم ہجوم پر پھینکا گیا جس کے نتیجے میں ساٹھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپیں ضلع گوداوری کے علاقے ممیدیوارام کے علاقے میں تیلگو دیشم پارٹی اور کانگریس کے کارکنوں کے درمیان ہوئیں۔
اس کے علاوہ جھارکھنڈ پولیس نے بتایا ہے کہ پیر ہی کو ہونے والی ووٹنگ کے دوران ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے دو افراد ہلاک ہو گئے جن میں ایک پولنگ افسر بھی شامل ہے۔ ریاستی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقع ضلع گلما میں قائم کشن گنج پولیس سٹیشن میں پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے پیچھے ماؤ نواز باغیوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب پُرتشدد کارروائیوں سے تباہ حال ریاست کشمیر میں جاری ووٹنگ کے دوران مشتبہ شدت پسندوں نے دو پولنگ سٹیشنوں پر دستی بموں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار اور کئی شہری ہلاک ہو گئے۔ سرینگر میں، جہاں علیحدگی پسند مہم بھی زوروں پر ہے، ووٹ ڈالنے والوں کا تناسب انتہائی کم رہا۔ سرینگر میں بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کے مطابق بہت سے پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ کے آغاز سے ایک گھنٹے بعد تک کوئی بھی شخص ووٹ ڈالنے نہیں آیا تھا۔ بعض پولنگ سٹیشنوں پر تعینات انتخابی عملہ محافظوں کے ہمراہ پولنگ بوتھوں کے باہر بیٹھا تھا۔
کشمیر کے چھ میں سے صرف ایک حلقے یعنی گرمائی دارالحکومت سرینگر میں پیر کے روز ووٹنگ ہو رہی ہے۔ کشمیر میں اتوار کو خاصے پُرتشدد واقعات پیش آئے جن میں ایک واقعہ کے دوران ریاست کی بڑی سیاسی جماعت کی صدر پر بھی دستی بم سے حملہ کیا گیا لیکن وہ بال بال بچ گئیں البتہ اس واقعہ میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ کشمیر میں جاری انتخابات میں حفاظتی اقدامات کے پیش نظر سات ہزار اضافی فوجی تعینات کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جن دیگر ریاستوں میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں ان میں آندھراپردیش بھی شامل ہے اور ماؤ نواز باغیوں سے نمٹنے کے لئے 80 ہزار پولیس اہلکار تقعینات کئے گئے ہیں۔ ریاست اتر پردیش کے اہم ترین حلقے رائے بریلی میں پیر کو ہونے والی ووٹنگ میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس پارٹی کی قائد سونیا گاندھی رکنِ پارلیمان منتخب ہونے کی خواہاں ہیں۔ سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی رائے بریلی کے ملحقہ حلقے امیتھی سے پہلی بار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ امیتھی میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے نے بتایا ہے کہ وہاں خاصی تیزی سے ووٹ ڈالے گئے۔ انتخابات کے حوالے سے اترپردیش کو بھارت کی سب سے اہم ریاست تصور کیا جاتا ہے کیونکہ ملکی پارلیمان کی کُل 543 نشستوں میں سے 80 اترپردیش کی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||