نریندر مودی کا سیاسی سفر

،تصویر کا ذریعہPTI

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

بھارت کی سیاست میں حالیہ برسوں میں نریندر مودی جیسےمعدودے چند ایسے سیاست داں نظر آتے ہیں جنہوں نے رائے عامہ کو اس قدر متاثر اور مرتکز کیا ہے۔

نریندر مودی کے بارے میں یہ بات صادق نظر آتی ہے کہ یا تو آپ ان کے حامی ہونگے یا پھر ان کے مخالف، لیکن آپ انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے۔

اگر چہ مودی پر گجرات میں سنہ 2002 کے فسادات کے سلسلے میں الزامات لگے ہوں لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی میں انہیں وزیر اعظم کے عہدے کا سب سے مضبوط دعویدار مانتے ہوئے انہیں پہلے بی جے پی کی انتخابی مہم کمیٹی کا چیئرمین نامزد کیا گیا اور جمعہ کو انہیں پارٹی کی جانب سے وزارت عظمی کا امیدوار بھی نامزد کر دیا گيا۔

اسے نریندر مودی کا کرشمہ ہی کہا جائے گا کہ چاہے گجرات اسمبلی انتخابات ہو یا پھر دوسرے انتخابات وہاں ان کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی سے زیادہ مودی کی شخصیت حاوی رہتی ہے۔

نریندر مودی سنہ 1950 میں گجرات میں مہسانا کے واڈنگر علاقے میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے علم سیاست میں ایم اے کیا۔ بچپن سے ہی ان کا جھکاؤ ہندو شدت پسند تنظیم آر ایس ایس کی جانب تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

واضح رہے کہ گجرات میں آر ایس ایس کی بنیاد کافی مظبوط مانی جاتی ہے۔

وہ 1967 میں 17 سال کی عمر میں احمد آباد پہنچے اور اسی سال وہ آر ایس ایس کے رکن بن گئے۔ اس کے بعد 1974 میں وہ نرمان آندولن یعنی تعمیر نو تحریک میں شامل ہوگئے۔

اس طرح فعال سیاست میں آنے سے پہلے مودی کئی سالوں تک آر ایس ایس کے پرچارک یا مبلغ رہے۔

سنہ 1980 کی دہائی میں جب مودی گجرات کی بی جے پی اکائی میں شامل ہوئے تو کہا جانے لگا کہ کہ پارٹی کو مذہبی ہندو تنظیموں کی انجمن سے براہ راست فائدہ حاصل ہوگا۔

وہ سال 1988-89 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی گجرات اکائی کے جنرل سیکریٹری بنائے گئے۔ نریندر مودی نے بی جے پی کے سینيئر رہنما لال کرشن اڈوانی کی 1990 کی سومناتھ سے ایودھیا جانے والی رتھ یاترا کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اس کے بعد وہ بی جے پی کی جانب سے کئی ریاستوں کے انچارج بنائے گئے۔

مودی کو 1995 میں بی جے پی کا قومی سکریٹری اور پانچ ریاستوں کی انتخابی پارٹی انچارج بنایا گیا۔ اس کے بعد 1998 میں انہیں جنرل سکریٹری ( تنظیمی امور ) بنایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہPTI

اس عہدے پر وہ اکتوبر 2001 تک رہے۔ لیکن 2001 میں كیشو بھائي پٹیل کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کے بعد مودی کو گجرات کی قیادت سونپی گئی۔ اس وقت گجرات میں زلزلہ آیا تھا اور زلزلے میں 20 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔

مودی کے اقتدار سنبھالنے کے تقریبا پانچ ماہ بعد ہی گودھرا ریل حادثہ ہوا جس میں کئی ہندو کارسیوک ہلاک ہوگئے۔ اس کے فوراً بعد فروری 2002 میں گجرات میں مسلمانوں کے خلاف فسادات بھڑک اٹھے۔

ان فسادات میں حکومت کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ اور برطانوی ہائی کمیشن کی ایک آزاد کمیٹی کے مطابق تقریبا 2000 افراد ہلاک ہو گئے۔ ان میں زیادہ تر مسلمان تھے۔

جب اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے گجرات کا دورہ کیا تو انہوں نے انہیں ’راجدھرم ادا کرنے‘ انھیں وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے فرض ادا کرنے کا مشورہ دیا جسے واجپئی کی ناراضگی کے علامت کے طور پر دیکھا گیا۔

مودی پر یہ الزام لگے کہ وہ فسادات کو روکنے میں ناکام رہے اور انہوں نے اپنے فرض کی ادائیگی نہیں کی۔ جب بھارتیہ جنتا پارٹی میں انہیں عہدے سے ہٹانے کی بات اٹھی تو انہیں اس وقت کے نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی اور ان کے حامیوں کی طرف سے حمایت ملی اور وہ عہدے پر برقرار رہے۔

گجرات میں ہونے والے فسادات کی بات کئی ممالک میں اٹھی اور مودی کو امریکہ جانے کا ویزا نہیں ملا۔ برطانیہ نے بھی دس سال تک ان سے اپنے تعلقات منقطع رکھے۔

،تصویر کا ذریعہPTI

مودی پر الزام لگتے رہے لیکن ریاست کی سیاست پر ان کی گرفت مسلسل مضبوط ہوتی گئی۔ گجرات بی جے پی میں اب کوئی ایسا لیڈر نظر نہیں آتا جو ان کو چیلنج کرنے کے بارے میں سوچ بھی سکے۔

اب تو بی جے پی کے قومی سطح کے لیڈر بھی کھلے عام مودی کی تنقید کا خطرہ نہیں مول لیتے ہیں۔

مودی ایک اچھے مقرر مانے جاتے ہیں اور انہیں آر ایس ایس کی بھی حمایت حاصل ہے۔ بہت سے لوگ انہیں ایک مؤثر منتظم مانتے ہیں جو بدعنوانی سے پاک ہیں۔

انہیں گجرات میں خوشحالی اور ترقی کا کریڈٹ بھی دیا جاتا ہے، حالانکہ بہت سے لوگ اس سے متفق نہیں ہیں۔

بھارت کے کچھ بڑے صنعت کار بھی ان کی پالیسیوں کی کھل کر تعریف کرتے ہیں۔ مسلسل تین بار اسمبلی کے انتخابات میں کامیابی ان کی مقبولیت پر مہر لگاتی ہے۔

اس لیے تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ بی جے پی کے کئی پالیسی ساز اب ان پر بڑا داؤ لگانے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ تاہم بی جے پی کی کئی سابق اتحادی سیاسی پارٹیاں فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے مودی کو بی جے پی کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty

جہاں مودی پر 2002 کے فسادات کو نہ روکنے کے الزام لگے ہیں، وہیں ان کی حکومت میں وزیر کے عہدے پر رہنے والی مایا كوڈناني انہی وجوہات سے 28 سال کی سزا بھگت رہی ہیں۔

مودی کے ناقدین کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ فسادات میں کردار کی وجہ سے ہی مودی نے كوڈناني کو وزیر کے عہدے سے نوازا تھا۔ مودی کے خلاف فسادات سے متعلق کوئی الزام کسی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

تاہم، خود مودی نے بھی کبھی فسادات کے بارے میں نہ تو کوئی افسوس ظاہر کیا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی معافی مانگی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ فسادات کے چند مہینوں کے بعد ہی جب دسمبر 2002 میں ریاست میں اسمبلی انتخابات میں مودی نے کامیابی حاصل کی تھی تو ان کو سب سے زیادہ فائدہ ان علاقوں میں ہوا تھا جو فسادات سے سب سے زیادہ متاثر تھے۔

اس کے بعد 2007 کے اسمبلی انتخابات میں انہوں نے گجرات کی ترقی کو ایشو بنایا اور پھر کامیابی حاصل کی۔

پھر 2012 میں بھی نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی گجرات اسمبلی انتخابات میں فاتح رہے اور اب مرکز میں اپنا سیاسی سکہ چلانے کی راہ پر گامزن ہیں۔