66 سال سے جاری زمین کا مقدمہ

ستیہ نارائن سنگھ
،تصویر کا کیپشنستیہ نارائن سنگھ کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس زمین کے لیے ان کا خاندان 20 لاکھ روپے سے زیادہ خرچ کر چکا ہے

بھارت کی شمالی ریاست بہار میں بھوجپور ضلع کے اكونا گاؤں میں دو خاندانوں کے درمیان گزشتہ 66 سالوں سے عدالت میں جاری زمین کا مقدمہ دو خاندانوں کی لڑائی کا اپنے آپ میں ایک انوکھا واقعہ ہے۔

اس مقدمے میں اب تک 300 سے زیادہ مدعی، تقریباً 30 ہزار صفحات پر مشتمل دعویداری کی دستاویزات اور ایک درجن سے زیادہ وکیل حصہ لے چکے ہیں۔

گنگا اور سريو دریا کے درمیان آباد زمین کے اس ٹکڑے پر اپنی اپنی دعویداری کے ساتھ بیسیسور سنگھ اور ہرگوند رائے کا خاندان پہلی بار 21 اپریل سنہ 1947 میں عدالت پہنچا تھا اور اب سنہ 2013 میں دونوں خاندانوں کی چوتھی نسل عدالت میں یہ مقدمہ لڑ رہی ہے۔

دونوں خاندانوں کا کہنا ہے کہ اس قانونی لڑائی کی وجہ سے وہ اب تک لاکھوں روپے خرچ کر چکے ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ اس دوران گنگا نے کئی بار اپنا راستہ بدلا جس کی وجہ سے متنازع زمین بھی ڈوب چکی ہے۔

ہرگوند رائے کے پڑپوتے ستیہ نارائن سنگھ کے مطابق ان کا خاندان اب تک عدالتی چکر میں تقریباً 20 لاکھ روپے خرچ کر چکا ہے تاہم وہ زمین پر مالکانہ حق کے لیے قانونی جنگ لڑتے رہیں گے۔

وہ کہتے ہیں ’اب یہ جنگ زمین کی لڑائی نہیں بلکہ عزت کی لڑائی بن گئی ہے۔ میرے بعد میرے بیٹے اور پوتے اس جنگ کو جاری رکھیں گے‘۔

آرا ضلعی عدالت
،تصویر کا کیپشنبھارت میں ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں تقریباً تین کروڑ مقدمات زیر سماعت ہیں

دوسری جانب بیسیسور سنگھ کے خاندان کی چوتھی نسل کے ایک رکن امیش کمار سنگھ کہتے ہیں کہ بھوجپور کی ضلعی عدالت نے دو بار ان کے حق میں فیصلہ سنایا تھا لیکن ہائی کورٹ میں اپیل کے بعد نچلی عدالت کے فیصلے کو مسترد کر دیا گيا۔

امیش کہتے ہیں’یہ ہماری پیچیدہ اور سست رو عدالتی عمل کا نتیجہ ہے کہ ہمارا مقدمہ گزشتہ 66 سالوں سے عدالت میں زیر سماعت ہے‘۔

انھوں نے بتایا کہ وہ عدالت کے چکر لگاتے لگاتے تھک چکے ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے حق کی لڑائی جاری رکھیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں خاندان اور ان کے وکیل بھی مانتے ہیں کہ عدالت میں اس تنازعے کا حل نکلنا ممکن نہیں ہے اور عدالت کے باہر ہی بات چیت سے اس کا کوئی حل ڈھونڈا جا سکتا ہے۔

بھارت میں ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں تقریباً تین کروڑ مقدمات زیر سماعت ہیں اور عدالتوں میں ججوں کی کمی ہے۔

بھارت کی ریاست بہار کی مختلف عدالتوں میں 16 لاکھ سے بھی زیادہ مقدمات التوا میں ہیں اور ان میں سے بیشتر مقدمات زمین کے تنازع سے منسلک ہیں۔