لندن میں بالی ووڈ ایکٹنگ سکول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ سکول ممبئی کے شہرت یافتہ ایکٹنگ سکول کی طرز پر کھلا ہے۔ اس سکول کے اساتذہ میں اداکار انوپم کھیر بھی شامل ہیں۔ تین ماہ کے کورس طالبعلموں کو فنکاری کے مختلف طریقے سکھائے جائیں گے۔ کورس کی فیس چار ہزار پونڈ ہے۔ انوپم کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ’جو بھی جھوٹ بول سکتا ہے وہ ایکٹنگ کر سکتا ہے۔‘ سکول میں طالبہ انو سنگھ کا کہنا ہے’انوپم کھیر نے ایک طالب علم کو ابھی ہی سے رُلا دیا۔ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے۔‘ یہ سکول سال میں ایک سو طلبہ کو تیار کرے گا۔ طالبعلموں کی اکثریت کا تعلق برطانیہ اور امریکہ سے ہے۔ تین ماہ کے کورس میں ایکٹنگ، ڈانس، یوگا، سٹیج پر لڑائی اور آواز پر قابو پانا سکھایا جائے گا۔ یہ طلبہ ممبئی میں بالی ووڈ کا بھی دورہ کریں گے۔ انوپم کا کہنا ہے کہ وہ طلبہ کو بالی ووڈ کی طرز پر اوور ایکٹنگ کرنے سے گریز کرنے کا کہیں گے۔ ’ایکٹنگ کا سٹائل بالی ووڈ اور عالمی دنیا میں تبدیل ہو گیا ہے۔ سیٹیلائٹ چینلز کی وجہ سے آج کل لوگ مختلف ہوگئے ہیں۔ وہ ہر بالی ووڈ فلم کو اس انداز سے نہیں دیکھتے جس طرح ماضی میں دیکھا جاتا تھا۔ آج کل کے لوگوں کا کہنا ہے کہ دیکھتے ہیں کہ اس فلم میں کیسا کام کیا گیا ہے۔‘ نئے طالب علم رنجیت سنگھ شبھ کا کہنا ہے ’میرے خیال میں زندگی میں سب سے بڑی ناکامی کوشش نہ کرنا ہے اس لیے میں کوشش کروں گا اور دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ان کو ہمیشہ سے ایکٹنگ کرنے کا شوق تھا اور بھارتی سینما کے دلدادہ ہیں لیکن یہ سکول صرف بالی ووڈ ہی کے لیے نہیں تیار کرے گا۔ یہ سکول ایکٹر پریپیئر، ایلنگ انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اور ہیتھرو سٹی پارٹرنشپ کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ | اسی بارے میں ’آگ‘ کے بعد رامو کی’پھونک‘31 August, 2008 | فن فنکار ’فلموں میں کبھی دلچسپی نہیں تھی‘ 16 April, 2008 | فن فنکار ’عامر کے تارے پاکستانی زمین پر‘12 April, 2008 | فن فنکار ’شاہ رخ بھی موم ہو گئے‘04 April, 2007 | فن فنکار ’ہم ہالی وڈ کی نقالی کب چھوڑیں گے؟‘23 February, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||