ٹورانٹو میں انٹرنیشنل فلمی میلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں تینتیسواں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول جاری ہے۔ اس میلے میں اس برس نو بالی وڈ فلموں کو نمائش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جبکہ دنیا بھر کے چونسٹھ ممالک سے کل تین سو بارہ فلمیں شامل ہیں۔ اس فلمی میلے میں ہالی وڈ اور بالی وڈ کے مشہور اداکاروں کے علاوہ دنیا بھر سے پانچ سو سے زائد فِلمی ستارے شرکت کر رہے ہیں۔ اکشے کمار نے اس میلے میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں شرکت کی ہے۔ اس کے علاًوہ بریڈ پٹ نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی ہے۔ بالی وڈ سے اکشے کمار، نندیتا داس، نفیس بزمی قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ فلم ساز دیپا مھتہ بھی میلے میں حصہ لے رہی ہیں۔ بالی وڈ اسٹارز کے ساتھ ساتھ دیگر معروف شخصیات اور دنیا بھر سے معروف اداکار اور ہدایتکاراس میلے میں شرکت کے لیے ٹورانٹو پہنچے ہیں اورشہر کا وسطی علاقہ دنیا بھر کے فلمی ستاروں سے جگمگا رہا ہے۔ اس برس پہلی مرتبہ دنیا کی سب سے لمبی ترین شاہراہ یانگ سٹریٹ پر واقع شہر کے وسطی تفریحی و سیاحتی مرکز ڈنڈاس سکوائر پر بڑی بڑی سکرینوں پر فلمیں مفت دکھائی جا رہی ہیں۔ یہاں پر روزانہ گزرنے والے ساٹھ ہزار سے زائد شہری میلے سے لطف اندوز ہورہے ہیں جبکہ اختتامی تقریبات بھی یہیں پر منعقد ہونگی۔ اس برس میلے میں پنجابی فلموں کی نمائش سے شائقین کی بڑی تعداد نظر آرہی ہے جسکی ایک وجہ کینیڈا میں مقیم بھارتی وپاکستانی نژاد پنجابی کمیونٹی ہے۔ مشہور بالی وڈ ہدایتکار و مصنف انیس بزمی کی مزاحیہ فلم سنگھ از کنگ کا خصوصی شومنعقد کیا گیا ہے۔
مدراس میں پیدا ہونے والے بھارتی نژاد کینیڈین فلمساز و ھدایتکار شری نیواش کرشنا کی فلم ’جب خدا زمین پر اترے‘ ھندو دیوتاؤں کی کہانی ھے۔ ماضی میں کرشنا کی فلموں کی نمائش کانز جیسےمشہورفلمی میلوں میں ہو چکی ہے۔ یس میڈم سر ہندی و انگریزی میں بنائی گئی فلم پچانوے منٹ دورانئے پر مشتمل ہے۔اس دستاویزی فلم کو آسٹریلوی فلمساز میگن ڈون میں نے بنایا ھے۔اس فلم کی کہانی بھارتی پولیس آفیسر کرن بیدی کی زندگی پر مبنی ہے۔ برطانوی فلمساز ڈینی بوئیل کی ممبئی پر بنائی فلم ’سلم ڈاگ ملین اییر‘ نے ممبئی کی غریب بستی میں رہنے والے ایک غریب لڑکے کی کہانی بتائی ہے۔ اس فلم کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔ امرتسر میں پیدا ہونے والی نامورو متنازعہ کینیڈین کہانی کار و ہدائت کارہ دیپا مہتہ کی پنجابی انگریزی فلم ’ھیون آن ارتھ‘ یعنی زمین پر جنت میں کینیڈا میں بسنے والے بھارتیوں کے سماجی مسائل کو اجا گر کیا گیا ہے۔ اس فلم میں پریتی زنتا نے چاند نامی لڑکی کا کردار ادا کیا ہے جو بھارت سے کینیڈا اپنے شوہر کے پاس آتی ہے۔ کینیڈا جہاں جنونی ایشیائی نژاد گھرانوں میں تشدد کا رجحان ہے اس فلم نے ایک بار پھر اس موضوع سے پردہ اٹھایا ہے۔ عرفان خان نے امریکی فلم ’نیویارک آئی لو یو‘ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سال کوئی پاکستانی فلم اس میلے میں شامل نہیں ھوئی جبکہ فارسی زبان میں بنائی گئی فلم ’کابلی بچہ‘ کو میڈیا میں بڑی پذیرگئی ملی ہے۔ اس فلم کو نوجوان افغان کہانی نویس برماک اکرم نے تیار کیا ہے۔یہ اس بچے کی کہانی ہے جسے اس کی ماں ایک ٹیکسی کی پچھلی نشست پر چھوڑ جاتی ہے۔ پنجابی و انگریزی زبان اور دیار غیرمیں مقیم جنوبی ایشیائی کرداروں پر بنائی گئی فلموں میں شائقین خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔اس میلے میں ایران، عرب ممالک ،ترکی اور مصر کی فلمیں بھی شامل ہیں۔ ٹورانٹو شہر اور اس کے گرد و نواح میں لاکھوں کی تعداد میں بھارتی اور پاکستانی فلم بینوں کے علاوہ دوسری قوموں کے لوگ بھی بالی وڈ کی فلموں کو شوق سے دیکھتے ہیں۔اس فیسٹیول میں فلموں کی نمائش کے ساتھ ساتھ تجارت پر بھی نظر ہے اور اس میلے میں بہت ساری امریکی و کینیڈین فلم پروڈکشن کمپنیاں بالی وڈ فلموں میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||