عارف وقار بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | پنڈت اُلہاس نے پنڈت روی شنکر کی سرپرستی میں موسیقی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور سنتور کے ساز میں کمال حاصل کیا |
پاک و ہند کا 61 واں یومِ آزادی یوں تو دونوں ممالک میں روائتی شان و شکوہ سے منایا جارہا ہے لیکن یورپی ثقافتی اداروں کے تعاون سے، اس برس ایک بالکل مختلف طرح کی تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ جرمنی اور فرانس کے ثقافتی مراکز نے کراچی کے ادارے سمپورن اور لاہور کے رفیع پیر تھیٹر کے ساتھ مِل کر، گوئٹے انسٹی ٹیوٹ ممبئی کے تعاون سے ایک ’جاز میلے‘ کا اہتمام کیا ہے جس کے تحت پاکستان، بھارت، فرانس اور جرمنی کے جاز موسیقار لاہور، کراچی اور ممبئی میں اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ چار ممالک کے چار فنکار اپنا پہلا شو تیرہ اگست کو لاہور کے پیرو کیفے میں پیش کر رہے ہیں۔ اس کے بعد پندرہ اگست کو یہ فنکار کراچی میں محفل جمائیں گے اور سترہ اگست کو ممبئی میں۔ یورپی اور پاکستانی فنکاروں کے مشترکہ فنی مظاہرے گزشتہ تین برس سے جاری ہیں لیکن یہ پہلا موقعہ ہے کہ بھارت کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔ بھارت کی نمائندگی پنڈت اُلہاس بپت کر رہے ہیں جنھوں نے پنڈت روی شنکر کی سرپرستی میں موسیقی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور سنتور کے ساز میں کمال حاصل کیا۔ وہ 1975 سے بھارت، یورپ، امریکہ، چین اور دنیا کے دیگر حصّوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔  | | | سنتور کے بھارتی ماہر پنڈت اُلہاس جرمن ثقافتی مرکز کی ڈائریکٹر نورین ذکی کے ہمراہ | لاہور آمد کے موقعے پر انھوں نے امید ظاہر کی کہ اسطرح کے فن کارانہ مظاہرے نہ صرف برِ صغیر کے ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ سُکڑتی ہوئی دنیا کو ایک خوشحال بستی میں تبدیل کرنے کا نیک فریضہ بھی انجام دیں گے۔ جرمنی سے اس برس فنکار کرسٹوفر لایر اس میلے میں شرکت کر رہے ہیں جو کہ سیکسوفون کے ماہر ہیں اور ڈرمز پر انکا ساتھ فرانسیسی ڈرم نواز پیٹرس ہیرل دے رہے ہیں جو کہ پیرس کے نیشنل جاز آرکسٹرا کے ایک معّزز رکن ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی نوجوان طبلہ نواز عرفان حیدر کرر ہے ہیں جنھوں نے طبلے کی ابتدائی تربیت اپنے دادا جمال خان مرحوم سے حاصل کی تھی اور بعد میں استاد عبدالحمید سے فن کی باریکیاں سیکھیں۔ وہ عالمی شہرت کے کئی جاز بینڈز کے ساتھ بین الاقوامی فنّی مظاہروں میں شرکت کر چُکے ہیں۔ |