خود نوشت کا فن اور ڈاکٹر پروازی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میں گُل کو دیکھ کے تخلیقِ گُل کی سوچتا ہوں‘۔ ڈاکٹر پرویز پروازی نے سویڈن میں قیام کے دوران اپنی پیشہ ورانہ ضرورتوں کے تحت اُردو کی کچھ خود نوشت سوانح عمریاں پڑھیں تو اس صِنف میں انھیں خاصی دلچسپی پیدا ہوگئی اور پھر وہ پاک و ہند میں پھیلے ہوئے اپنے دوستوں، شناساؤں اور کرم فرماؤں سے مختلف سوانح عمریاں بھیجنے کی فرمائش کرنے لگے۔ نہ دوستوں کی جانب سے اس سپلائی میں کوئی لغزش آئی اور نہ ڈاکٹر پروازی کے شوقِ سوانح خوانی میں کوئی کمی واقع ہوئی، چنانچہ ڈاکٹر صاحب کی میز پر خود نوشتوں، یاداشتوں اور توزکوں کا ڈھیر لگتا رہا لیکن ’گُلوں کو دیکھتے رہنا تو کوئی بات نہیں‘ چنانچہ ڈاکٹر پروازی نے تخلیقِ گُل کے پیچھے کارفرما عمل کا جائزہ لینا شروع کیا اور ہر پھول کی پتیوں کو گننے کے ساتھ ساتھ اس کے ڈنٹھل اور شاخ کی پیمائش بھی کی۔ انہوں نے ہر گُل کی خوشبو کو بھی الگ الگ جانچا پرکھا اور واضح طور پر بتایا کہ یہ خوشبو گلستان کے دیگر لالہ و نسترن کی مہک سے کسطرح مختلف ہے۔ ڈاکٹر پروازی نے خود نوشت سوانح نگاری کے ضمن میں فِلپ گیدلا کا یہ دلچسپ قول نقل کیا ہے۔ ’سوانح نگاری ایسا علاقہ ہے جس کے شمال میں تاریخ، جنوب میں افسانہ طرازی، مشرق میں تعزیت نگاری اور مغرب میں کوفت اور ناگواری کے علاقے پائے جاتے ہیں۔‘ خود ڈاکٹر صاحب کی تحقیق کے مطابق تاریخ میں اوّلین خود نوشت سوانح عمری سینٹ آگسٹائن کی تھی جو کہ آج سے سولہ سو برس پہلے تحریر کی گئی۔ توزک کی صنف کو ڈاکٹر پروازی خود نوشت کے زمرے میں شامِل نہیں کرتے کیونکہ ہر بادشاہ اپنے ہی کہے کو مستند سمجھتا ہے جبکہ بقول پروازی ٰ ٰ ۔۔۔ خود نوشت سوانح نگار اگر اپنے لکھے کو مستند کہنا چاہے گا تو اسے قدرت اللہ شہاب کی طرح تاریخ کو مسخ کرنا ہوگا یا جوش صاحب کی طرح اپنی تاریخ خود بنانی پڑے گی۔ٰ ٰ اس اقتباس سے اردو کی دو مشہور و معروف خود نوشت سوانح عمریوں کے بارے میں ڈاکٹر پرویز پروازی کے خیالات واضح ہو جاتے ہیں۔ وہ مصنف کے بیان کردہ واقعات کو حقائق کی خورد بین تلے رکھ کر گہری نظر سے اسکا مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر لیبارٹری میں شب و روز بسر کرنے والے ایک بے رحم سائنس داں کے انداز میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیتے ہیں۔ بے لاگ سائنسی تجزئیے کا یہ رویّہ کہیں کہیں سفّاکی کے دائرے میں بھی داخل ہو جاتا ہے۔
لیکن ڈاکٹر پروازی ایک جابر مگر عادل حکمران کی طرح رحم کی اس اپیل کو مسترد کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور سوانح نگار کےلئے بے باکی کے ساتھ ساتھ حق گوئی کی شرط کو لازمی قرار دیتے ہوئے اسے کٹہرے میں کھڑا کر کے ایک زِیرک وکیل کی طرح اُس پر جِرح کرتے ہیں اور زیبِ داستان کےلئے لکھے گئے ہر فالتو لفظ کا حساب مانگتے ہیں۔ احمد بشیر کی خود نوشت ’دِل بھٹکے گا‘ کے بارے میں لکھتے ہیں: ’احمد بشیر کو اچھوں کو اچھا کہنا بھی آتا ہے اور اچھوں کو بُرا کہنا بھی، اس لئے اچھے اچھے اس سے خوف زدہ رہتے ہیں اور یہی کہتے ہیں، نہ اسکی دوستی اچھی نہ اسکی دشمنی اچھی۔ اُس نے صنفِ نازک کو کبھی نازک نہیں سمجھا اس لئے انھیں کسی رُو رعایت کا مستحق نہیں گردانا۔ اسکے بے باک قلم نے دوستوں کی بیویوں تک کو اپنی بے رحم صاف گوئی سے مجروح کرنے میں کوئی باک محسوس نہ کیا۔۔۔ اس نے زہرِ ہلاہل کو کبھی قند نہ کہا مگر قند کو زہرِ ہلا ہل کہنے کا حوصلہ اس میں ہمیشہ رہا۔ اب اس کی خود نوشت کا چرچا ہوا تو لوگ منتظر تھے کہ دیکھیں یہ بے باک شخص اپنا حساب کیسے بے باق کرتا ہے مگر حیف کہ اس نے اپنی مردانگی کا ثبوت دینے اور کھلے دِل سے اپنی سرگزشت عام کرنے کی بجائے ناول کا گھونگھٹ نکال لیا۔‘ ڈاکٹر پروازی نے اس نکتے کو کوئی اہمیت نہیں دی کہ اگر سوانح عمری کے نام پر لکھی گئی تحریر میں داستان سرائی یا مبالغہ آرائی کا ہلکا سا پرتو بھی آجائے تو سوانح نگار کےلئے باعثِ ندامت ہوگا جبکہ فکشن کے طور پر لکھی گئی تحریر میں اسے یہ چھُوٹ ہے کہ وہ اصل واقعات کی بنیاد پر افسانے کا شاندار محل تعمیر کر لے۔ جو باتیں اعلانیہ فکشن کے طور پر لکھی گئی ہیں انھیں حقائق کی کسوٹی پر پرکھنا ایسا ہی ہے جیسے انارکلی کی بنیاد پر مغلیہ تاریخ کا کوئی باب رقم کرنا۔ ڈاکٹر پروازی اس بات کے بھی شاکی ہیں کہ مولانا عبدالمجید سالک جیسے مستند ادیب اور جید صحافی کا تذکرہ احمد بشیر نے انتہائی بدتمیزی سے کیا ہے۔ خود مولانا سالک کی سرگزشت کا تذکرہ ڈاکٹر پروازی نے بہت عزت و احترام سے کیا ہے اور اسے اپنی کتاب میں ڈھائی صفحے دیئے ہیں جبکہ اُن کے فرزندِ ارجمند ڈاکٹر عبدالسلام خورشید کی آپ بیتی کےلیے صرف چند سطریں وقف کی ہیں۔ ٰ ٰ ۔۔۔ رو میں ہے رخشِ عمر ۔۔۔ نہایت پھسپھسی اور بے رنگ خود نوشت ہے۔ لگتا ہے خورشید صاحب نے اپنی صحافت کی تعلیم کے سلسلے میں جو مواد اکٹھا کیا تھا اسے اپنی خود نوشت کا نام دے دیا ہے۔ یہ ایک بہت بڑے باپ کے بیٹے کی بہت چھوٹی خود نوشت ہے۔ ٰ ٰ باپ بیٹے کی مثال یہاں اس لئے دی گئی ہے کہ پروازی صاحب کی غیر جانبداری واضح ہوسکے۔ اگرچہ یہ وضاحت اُن کی مرتب کردہ کتاب کی ہر سطر سے جھلک رہی ہے اور وہ کہیں بھی اپنے افکار و نظریات یا ذاتی تعصبات کو زیرِ گفتگو شخصیت پر اثر انداز نہیں ہونے دیتے۔ ڈاکٹر پروازی کی کتاب کا ایک اہم حصّہ آٹو بیاگرافی کے نظری مباحث سے تعلق رکھتا ہے اور فنِ سوانح نگاری کی باریکیوں کو سمجھنے میں بہت مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔ کتاب کے اس ابتدائی حصّے میں دوستو فسکی، ہڈسن، ژیٹس، ورڈز ورتھ، لارڈ بٹلر اور چرچل سے لیکر مولانا آزاد، پروفیسر آل احمد سرور، ڈاکٹر یوسف حسن خان، وزیر آغا، اختر حسین رائے پوری، جنرل شاہد حامد، احسان دانش، مرزا ادیب اور قدرت اللہ شہاب تک کی وہ آراء درج ہیں جو یہ اصحاب خود نوشت کے بارے میں رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر پروازی کی اس تجزیاتی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے بار بار شہاب نامے سے واسطہ پڑتا ہے اور کبھی کبھی تو محسوس ہونے لگتا ہے کہ اگر کسی واحد کتاب کو یہ کریڈٹ دیا جائے کہ اُس نے جناب پروازی کو ایک عظیم تحقیقی کام پر مامور کردیا تو وہ کتاب شاید شہاب نامہ ہی ہوگی، لیکن ایسا کہتے ہوئے ہم ان ڈیڑھ سو خود نوشت سوانح عمریوں کو نظر انداز کر رہے ہوں گے جن کے تجزیاتی مطالعے پر ڈاکٹر پروازی کی کتاب پسِ پس نوشت مبنی ہے۔ اپنی ابتدائی شکل میں جب پانچ برس پہلے یہ کتاب منظرِ عام پر آئی تو اس میں صرف ستّر خود نوشت سوانح عمریوں کا ذکر تھا۔ جن میں حسین احمد مدنی، شورش کاشمیری، زیڈ ۔ اے بخاری، سر ظفر اللہ خان، قدرت اللہ شہاب اور جنرل جہاں داد خان سے لیکر دیوان سنگھ مفتون، گوپال متل، جوش ملیح آبادی، کشور ناہید اور رام لعل تک ہر شعبہء زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی آپ بیتیاں موجود تھیں۔ ظاہر ہے کہ اپنی نوعیت کی اس واحد کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اس حوصلہ افزائی نے مولف کےلئے بھی مہمیز کا کام کیا۔ اپنی نئی صورت میں یہ صخیم کتاب ایک سو اکاون خود نوشت سوانح عمریوں کو گرفت میں لئے ہوئے ہے۔ نئے مشمولات میں احمد ندیم قاسمی، احسان دانش، مختار مسعود، شیخ ایاز، امرتا پریتم، قرۃالعین حیدر اور اے حمید جیسے ادیبوں، شاعروں سے لیکر مسعود کھدرپوش، جسٹس منیر، الطاف گوہر، ڈاکٹر کرن سنگھ، روئداد خان، جنرل عتیق الرحمٰن اور جنرل پرویز مشرف جیسی اہم عسکری اور سیاسی شخصیات کی آپ بیتیاں موجود ہیں۔ سفید کاغذ، عمدہ چھپائی اور مضبوط جلد والی 640 صفحات کی اس کتاب کو لاہور کے اشاعتی ادارے نیا زمانہ نے شائع کیا ہے اور اسکی قیمت صرف 600 روپے مقرر کی ہے۔ ایک ایسے زمانے میں جب تحقیق و تفتیش کی گہرائی اور حقائق کی کھوج میں محقق کی عرق ریزی ماضی کے فسانے بن چُکے ہیں، ڈاکٹر پروازی کا یہ کارنامہ ہر طرح سے سراہنے کے قابل ہے، لیکن ساتھ ہی اُن ریٹائرڈ سرکاری افسروں، جرنیلوں اور سیاست دانوں کےلئے ایک لمحہء فکریہ بھی ہے جو آج کل اپنی خود نوشت کےلئے نوٹس تیار کر رہے ہیں کیونکہ ڈاکٹر پروازی ایک ہاتھ میں چھلنی اور دوسرے میں محدّب عدسہ لئے ہر نئی آنے والی آپ بیتی کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||