BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 June, 2008, 14:48 GMT 19:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’برطانیہ میں ستّر فیصد بھارتی ڈی وی ڈیز جعلی‘
سرکار راج
سرکار راج کی جعلی ڈی وی ڈیز بازار میں آ چکی ہیں
دنیا بھر میں مقبول بھارتی فلموں کو اس وقت جس بڑے مسئلے کا سامنا ہے وہ ہے نقالی یا ’پائریسی‘۔

برٹش فونوگرافک انڈسٹری کے اندازوں کے مطابق برطانوی بازاروں اور سٹالز پر فروخت کی جانے والی بھارتی فلموں کی ستّر فیصد ڈی وی ڈیز جعلی ہوتی ہیں جبکہ ہالی وڈ کی فلموں میں یہ شرح صرف پانچ فیصد کے قریب ہے۔

مغربی لندن کا علاقہ ساؤتھ آل ایک ایسی جگہ ہے جہاں خوشبو دار کھانوں اور خوشنما ساڑیوں کی دکانوں کے علاوہ بالی وڈ فلموں اور گانوں کی ڈی وی ڈیز اور سی ڈیز بھی بڑی تعداد میں دستیاب ہوں۔

گزشتہ برس کے دوران پولیس اور متعلقہ حکام نے ساؤتھ آل کے علاقے میں بالی وڈ کی نقلی فلموں کا کاروبار کرنے والی کم از کم سات دکانوں کو بند کیا ہے اور ان گوداموں پر چھاپے مارے ہیں جہاں ان فلموں کی نقل بنائی جاتی تھی۔ تاہم ان کارروائیوں کے باوجود فلموں کی نقلی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز کا کاروبار ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔

لندن کی ایلنگ کونسل کے سینئر ٹریڈنگ آفیسر محمد طارق کا کہنا ہے کہ ’جعلی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز بنانے والے لوگ ہی اس منظم جرم کے اصل گرگے ہیں‘۔

ساؤتھ آل میں فلموں کے ایک سٹال سے تین سو سے زائد نقلی سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز برآمد کرنے والی ٹیم کے رکن پولیس سارجنٹ شاہد ملک کے مطابق ایک جعلی سی ڈی پر سٹال ہولڈرز کی لاگت ستّر سے اسّی پنس آتی ہے جبکہ وہ اسے کئی گنا منافع پر بیچتے ہیں‘۔ ان کے مطابق’ہم نے کئی جعلی ڈی وی ڈیز دیکھی ہیں اور ان کی کوالٹی اتنی بھی بری نہیں تھی‘۔

ساؤتھ آل یں بالی وڈ کی جعلی فلموں کا کاروبار کرنے والی سات دکانوں کو بند کیا گیا ہے

شاہد ملک کے مطابق نقلی سی ڈیز کے سٹال لگانے والے افراد میں سے زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو بہتر زندگی کی تلاش میں برطانیہ آئے ہیں۔ تاہم شاہد کا کہنا ہے کہ ان افراد کو تو روزانہ تیس پاؤنڈ دیے جاتے ہیں اور اصل منافع سی ڈیز بنانے والے افراد کو جاتا ہے۔

بھارتی فلمی صنعت کے ماہرین کے مطابق یہ اندازہ لگانا قریباً ناممکن ہے کہ فلموں کی نقالی سے بالی وڈ کو کتنا نقصان ہو رہا ہے۔ ایک بھارتی پروڈیوسر کے مطابق فلموں کی نقالی ’دن دیہاڑے چوری‘ کے مترادف ہے۔

ایروس کمپنی سے تعلق رکھنے والے پروڈیوسر پرنب کپابیا کے مطابق نقالی سے کسی فلم کمپنی کو ایک فلم کے منافع کے پچاس فیصد کے برابر نقصان ہوتا ہے اور ان سٹالوں پر مارے جانے والے چھاپے اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔

اسی بارے میں
بالی ووڈ کا میڈ ان پاکستان
15 March, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد