BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 June, 2008, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی فن پارے،امریکی فوجی کی نمائش
پینٹنگز
عراق کے محمد الحامدی کی کی پنٹنگ، جس کاعنوان ’آتش شب‘ ہے
نیویارک کے معروف مینہیٹن علاقے میں سوہو گلی کی پومیگرینیٹ آرٹ گیلری آج کل عراقی مصوروں کے فن پاروں سے سجی ہے اور اس کا اہتمام امریکہ کے ایک سابق فوجی نے کیا ہے جو عراق میں تعینات تھے۔

کرسٹوفر براؤن فیلڈ بغداد کے اس گرین زون علاقے میں تعینات تھے جہاں امریکی حکام کا دفتر، سفارتخانہ اور عراقی پارلیمان ہے۔ بغداد کے اس علاقے میں کبھی بہت سے لوگ رہتے تھے جسے عراق میں امریکی حملے کے بعد محفوظ علاقہ قرار دیدیاگیا۔

ایک روز کرسٹوفر ٹائی خریدنے کے لیے شاپنگ کے لیے نکلے اور ایک پرانی ساز وسامان کی دکان پر پہنچے جہاں فوجیوں کے لیے بہت سی چیزیں بکتی تھیں۔ اس دکان پر سیاحوں کے لیے پینٹنگز، ایرانی قالینیں اور حقے بھی رکھے تھے۔

کرسٹوفر کو دکان پر نا تو ٹائی پسند آئی اور نا ہی پینٹنگز لیکن دکانداروں سے بات چیت کرنے پر انہیں مصوری میں دلچسپی ضرور پیدا ہوئی۔’جب میں نے دکان میں لوگوں سے بات کی تو مجھے پتہ چلا کہ انہیں فن مصوری کے متعلق بہت کچھ معلوم ہے، ان میں سے کئی نے فائن آرٹ میں ڈگری لے رکھی تھی اور وہ امریکی آرٹ کے متعلق جاننا چاہتے تھے تو ہم نے اس ثقافتی پہلو پر تبادلہ شروع کیا۔ میں انہیں امریکی آرٹ کے متعلق کتابیں دینے لگا اور وہ مجھے عراق کے متعلق اور اس طرح ہماری ان کی دوستی شروع ہوئی۔‘

براؤن فیلڈ نے عراقی پنٹنگز کو امریکہ سمگل کیا

کرسٹوفر براؤن فیلڈ کا کہنا ہے کہ انہیں عربی زبان نہیں آتی تھی اور عراقیوں کی انگریزی بھی ٹوٹی پھوٹی تھی تو کمیونیکیشن کے لیے مختلف آرٹ کی کتابوں کا استعمال ہوتا تھا۔

زیادہ تر فنکار اس روز گار سے اپنی روزی روٹی چلانے کی کوشش میں لگے تھے اور فوجیوں میں’ لارنس آف‌ عربیہ ‘ کے طرز کی تصویریں کافی مقبول تھیں۔ فوجیوں کو وہ زیادہ تر پینٹنگز دکھاتے جس میں آس پاس جاری تشدد اور بدنظمی کا ماحول تھا۔

کرسٹوفر کہتے ہیں ’ دو تین ماہ کی جان پہچان کے بعد وہ ایسی اچھی تصویریں لانے لگے جو وہ عام طور پر فوجیوں کو نہیں بیچتے تھے۔ تاہم اس میرین فوجی کو وہ پینٹنگز کی کوالٹی اور اور تعداد دیکھ کر میں نے انہیں ایک پیش کش کی کہ مجھے ان تصویروں کو امریکہ لے جانے دیں، وہاں میں ان کی نمائش کروں گا اور فروخت کرنے کی کوشش کروں گا۔‘ چند ماہ کی گفت و شنید کے بعد وہ اس بات پر راضی بھی ہوگئے۔

لیکن ان پینٹنگز کو امریکہ پہنچانا آسان کام نا تھا۔ سوال یہ تھا کہ ان سو کینواسز کو امریکہ کیسے لے جایا جائے۔ اس کے لیے کرسٹوفر براؤن فیلڈ نے امریکی فوج کی ڈاک سروس کا استعمال کیا۔’ یہ ایک چیلنچ سے کم نہیں تھا، میں نے اس کے لیے ڈاک کے قوانین کی خلاف ورزی کی۔ تکنیکی طور پر ہمیں کسی دوسرے کا سامان ڈاک کے ذریعے بھیجنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے تو ہمیں کسٹمز کے فارمز پر جھوٹ سے کام لینا پڑا۔‘

 دو تین ماہ کی جان پہچان کے بعد وہ ایسی اچھی تصویریں لانے لگے جو وہ عام طور پر فوجیوں کو نہیں بیچتے تھے۔ ان پینٹنگز کی کوالٹی اور اور تعداد دیکھ کر میں نے انہیں ایک پیش کش کی کہ مجھے ان تصویروں کو امریکہ لے جانے دیں، وہاں میں ان کی نمائش کروں گا اور فروخت کرنے کی کوشش کروں گا۔
کرسٹوفر براؤن فیلڈ

دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام پینٹنگز صحیح سلامت امریکہ پہنچ گئیں اور اب یہ پومیگرینیٹ گیلری میں بخوبی رکھی ہوئي ہیں۔ حالانکہ سبھی کینواس یہاں نہیں ہیں لیکن نمائش کے لیے پھر بھی بہت زیادہ ہیں۔

کرسٹوفر نے بتایا ’پچیس پینل کی پنٹنگ محمد الحمدانی کی ہے جس کا نام ’لیلات الناّر‘ یعنی شب آتش ہے۔ شب آتش سیریز کی ابتداء دوہزار تین میں امریکی حملے کی وقت کی ہے، جسے اس وقت امریکی اور مغربی میڈیا میں’ شاک اینڈ آء کیمپین یعنی خوف اور سراسمیگی پھیلانے والی مہم سے تعبیر کیا گيا تھا۔‘

اس میں مرکزی تصویر وہ ہے جس میں صدام حسین کے مجسمہ کوگرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کئی تصویروں میں لال اور کالے رنگ کے دھماکے ہیں جس میں لوگ اپنی کھڑکیوں سے گلیوں میں ہوتے تشدد کو دیکھ رہے ہیں۔

یہ نمائش کوئی بہت زیادہ اہم نہیں ہے۔ فوجی سے ایک آرٹ کے تاجر بنے کرسٹوفر کہتے ہیں کہ یہ ملک بیرونی تہذیب و ثقافت سے بہت کم مانوس رہا ہے اس لیے اس طرح کی کوشش ایک نئی پیش کش ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد