ہیری پوٹر کیس، راؤلنگ کی گواہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بچوں کے ادب کے مشہور کردار ہیری پوٹر کی خالق برطانوی مصنفہ جے کے راؤلنگ نے نیویارک میں عدالت کو بتایا ہے کہ ان کے نزدیک ہیری پوٹر سیریز کا غیر حتمی انسائکلوپیڈیا شائع کرنے کی کوشش ’مکمل چوری‘ کے مترادف ہے۔ جے کے راؤلنگ اس انسائکلوپیڈیا کی اشاعت رکوانے کے حوالے سے جاری قمدمے میں گواہی دینے کے لیے نیو یارک گئی ہیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے نئے ناول پر کام ملتوی کر دیا ہے کیونکہ قانونی خدشات کی وجہ سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ یہ مقدمہ ’ہیری پوٹر لیکسِکن‘ نامی اس’گائیڈ بُک‘ کے بارے میں ہے جس کا زیادہ تر مواد اسی نام کی ایک انٹرنیٹ ویب سائٹ سے لیا گیا ہے۔ راؤلنگ کا دعویٰ ہے کہ یہ کتاب بطور مصنف ان کے حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ اسی سلسلے میں جے کے راؤلنگ نے سٹیو واڈر آرک اور ان کے پبلشر آر ڈی آر بُکس پر مقدمہ دائر کیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مقدمہ پورے ہفتے چلے گا۔ مقدمے سے پہلے عدالت میں درج کاغذات میں جے کے راؤلنگ نے کہا تھا کہ انہیں یہ جان کر بہت تشویش ہوئی کہ ’لیکسِکن‘ ویب سائٹ پر موجود مواد کو کتاب کی شکل میں شائع کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’آر ڈی آر ایک ایسی کتاب شائع کرنا چاہتا ہے جو مکمل طور پر ہیری پوٹر کتابوں کی نقل ہوگی اور میں برسوں سے ایسا روکنے کی کوشش کرتی رہی ہوں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خود ایک حتمی ہیری پوٹر انسائکلوپیڈیا لکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں جس میں وہ مواد بھی شامل ہوگا جو اب تک شائع نہیں ہوا ہے۔ راؤلنگ کا کہنا تھا کہ ’اگر آر ڈی آر کے موقف کو صحیح قرار دیا گیا تو ظاہر ہے اس کا اثر اس آزادی پر پڑے گا جو اس وقت انٹرنیٹ پر سچے شائقین کو حاصل ہے۔‘ آر لای آر بُکس کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کے ذریعے راؤلنگ ان کی تحریر کردہ کتابوں کے بارے میں کسی بھی قسم کی تحقیق یا ریفرنس گائڈز شائع کرنے کا حق صرف اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر راؤلنگ کے موقف کو صحیح قرار دیا گیا تو فکشن کے حوالے سے لکھی گئی تمام گائیڈ، انسائیکلوپیڈیاز وغیرہ کو کالعدم قرار دیا جانا پڑے گا۔ |
اسی بارے میں ہیری پوٹر سیریز انجام کو پہنچ گئی21 July, 2007 | فن فنکار ہیری پوٹر: 11 ملین کاپیاں بک گئیں24 July, 2007 | فن فنکار اور اب ہیری پوٹر تِھیم پارک بھی31 May, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||