BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 October, 2007, 11:24 GMT 16:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کائٹ رنر‘ کی نمائش مؤخر

فلم کائٹ رنرز
احمد خان اب ایک خلیجی ریاست میں نئی زندگی شروع کرے گا
افغانستان میں جلد ہی ریلیز ہونے والی ایک متنازعہ فلم میں کام کرنے والے لڑکے کے خاندان کو فلم کے تقسیم کار شدید رد عمل کے خدشے کے تحت ملک سے باہر بھجوا رہے ہیں۔

لڑکے کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ کائٹ رنر (Kite Runner) نامی فلم کے تقسیم کاروں کا خیال ہے کہ یہ اقدام لڑکے اور اس کے گھر والوں کی سکیورٹی کے پیش نظر اٹھایا جا رہا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بتایا ہے کہ تقسیم کار کمپنی ’پیراماؤنٹ وینٹِج‘ مذکورہ فلم کی نمائش مؤخر کر رہی ہے اور اس دوران وہ افغانستان سے تین خاندانوں کو نکلنے کا انتظام کر رہی ہے۔

افغان نژاد امریکی مصنف خالد حسینی کے دو ہزار تین میں شائع ہونے والے ناول میں مصنف نے افغانستان پر روسی حملے سے قبل اور طالبان کے دور حکومت تک کے عرصے کے حالات و واقعات کا احاطہ کیا ہے۔ افغانستان میں یہ کتاب خاصی متنازعہ بن چکی ہے۔

اس فکشن میں جن موضوعات پر بات کی گئی ہے ان میں جلا وطنی، ایک بیٹے کی اپنے باپ کو خوش کرنے کی شدید خواہش اور سب سے بڑھ کر ناول کے دو مرکزی کرداروں کی دوستی اور اس دوستی میں توڑ پھوڑ شامل ہیں۔فلم کے جس منظر کو سب سے زیادہ متنازعہ تصور کیا جا رہا ہے اس میں کہانی سنانے والے لڑکے کے قریبی دوست اور ملازم کو ایک شخص جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا ہے۔

احمد خان کے والد نے تصدیق کی کہ ان کا خاندان اس ماہ متحدہ عرب امارات جا رہا ہے

زیادی کا شکار ہونے والے لڑکا کا کردار احمد خان نے ادا کیا ہے۔ جب بی بی سی نے احمد خان کے والد احمد جان محمید زادہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ ان کا خاندان اس ماہ متحدہ عرب امارات جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کے افغانستان سے جانے کے اخراجات فلم کے ڈسٹری بیوٹرز اٹھا رہے ہیں۔

اگرچہ احمد جان محمید زادہ نے افغانستان چھوڑنے کی وجوہات نہیں بتائیں، تاہم کچھ عرصہ قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ جنسی زیادتی والے منظر کے خلاف پرتشدد رد عمل ہو سکتا ہے۔ اس منظر میں احمد خان کو، جس کا تعلق ہزارہ برادری سے دکھایا گیا ہے، با اثر پشتون قبیلے کا ایک شخص زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا ہے۔

احمد جان محمید زادہ نے کہا تھا: ’مجھے خوف ہے کہ میرے قبیلے والے ہزارہ لوگ میرے خلاف ہو جائیں گے ، وہ میرا گلا بھی کاٹ سکتے ہیں، مجھے قتل کر سکتے ہیں۔‘

احمد جان محمید زادہ کے علاوہ فلم میں کام کرنے والے دیگر افغان اداکاروں نے بھی ڈسٹری بیوٹرز کو بتایا کہ ان کا جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اب فلم کی نمائش میں کم سے کم چھ ہفتوں کی تاخیر کر دی گئی ہے اور تین خاندانوں کو افغانستان سے نکالنے کا بندو بست کیا جا رہا ہے۔

تنازعہ
 فلم میں کام کرنے والے لڑکوں اور ان کے خاندانوں نے شکایت کر دی تھی کہ انہیں جنسی زیادتی والے منظر کے بارے میں پہلے نہیں بتایا گیا تھا

نیویارک ٹائمز کے مطابق فلم کے پروڈیوسرز کو اس بات کے لیے بہت سراہا جا رہا ہے کہ انہوں نے فلم میں زیادہ سے زیادہ افغان اداکاروں کو موقع دیا ہے۔

لیکن فلمبندی کے مراحل میں تنازعہ سامنے آنا شروع ہو گیا تھا کیونکہ فلم میں کام کرنے والے لڑکوں اور ان کے خاندانوں نے شکایت کر دی تھی کہ انہیں جنسی زیادتی والے منظر کے بارے میں پہلے نہیں بتایا گیا تھا۔

فلم سازوں کا اصرار ہے کہ یہ شکایت غلط ہے کیونکہ انہوں نے مذکورہ منظر کے بارے میں پہلے بتایا تھا۔

اسی بارے میں
جوڈ لاء افغانستان میں
20 July, 2007 | فن فنکار
افغانستان: پردہ اٹھتا ہے
15 May, 2007 | فن فنکار
افغان اور بالی وڈ کا اشتراک
26 September, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد