’موسیقی سکھائی نہیں جا سکتی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے مشہور گلوکار کیلاش کیھر کا کہنا ہےکہ ان کےگانےان کی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں اور زندگی نے جو کچھ انہیں دیا ہے وہ انہیں تجربات کا نچوڑ اپنےگانوں میں سماج کو لوٹا رہے ہیں۔ بی بی سی ہندی کے سنجیو سریواستو کے ساتھ ایک غیر رسمی انٹرویو کے دوران کیلاش کا کہنا تھا کہ موسیقی ایسی چيز ہے جو آپ کو کوئی سکھا نہیں سکتا بلکہ یہ ہنر پیدائشی ہوتا ہے ۔ آپ سے سب سے پہلا سوال؛ آپ کی آواز سن کرایسا لگتا ہے جیسے یہ سیدھے دل اور روح سے نکل کر آرہی ہے۔ کیسے پائی یہ آواز؟ آواز قدرت کی دین ہوتی ہے لیکن زندگی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے زندگی میں بہت تھپیڑے کھائے اور بہت تجربہ حاصل کیا۔ ان تجربات سے جو کچھ بچا ہے وہ روح سے جڑ ا ہوا ہے۔ اس لیے جب بھی گاتا ہوں تو لگتا ہے کہ بالکل روح سے گارہا ہوں، میرے زندگی کے کھٹے میٹھے تجربات کا نچوڑ میرے گانے ہیں۔ ایسا لگتا ہےکہ آپ کی زندگی کے کھٹے میٹھے اور سکھ ُدکھ کے تجربات میں دکھ کے تجربات زيادہ ہیں؟ ایسی بات نہیں ہے،کسی بھی آدمی کی زندگی میں دکھ تھوڑی دیر کے لیے بھی آئے تو زیادہ لگتا ہے۔ لیکن میں تکلیف اور آرام کو یکساں طور پر لیتا ہوں۔ گزشتہ برس میرا ایک ایلبم ’ کیلاشا‘ آیا تو میں اسی وقت بیمار پڑ گيا تھا۔ مجھے اے آر رحمان کا فون آیا کہ ’تم سچ میں بیمار ہو یا آنا نہیں چاہتے ، مجھے لگا کہ جب آپ کا وقت ہوتا ہے تو ہر طرف آپ کے نام کی لوٹ مچی رہتی ہے، نہیں تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ آپ کی قسمت کیسے بدلی؟ سنگیت بھارتی، گندھروں مہاودھالیہ جیسے اداروں سے میں نے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ لیکن میں یہاں بھی کہنا چاہتاہوں کہ موسیقی ایسی چيز ہے جو آپ کو کوئی ادارہ نہیں سکھا سکتا موسیقی پیدائشی ہوتی ہے۔ یہ فن آپ کو پیدائش کے ساتھ آتا ہے اور بس ریاض کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں بچپن سے فلمی موسیقی کے بجائے کچھ دوسری طرح کی موسیقی سیکھنا چاہتا تھا ، جو ملک کے مختلف حصوں میں گایا جاتا ہے۔ جس پر لوگوں کا بہت زيادہ دھیان نہیں جاتا ہو۔ میں نے چھوٹے شہروں اور قصبوں کے مقامی گیتوں پر اپنا دھیان بڑھایا اور ایسی موسیقی سیکھنے کا جذبہ میں ہمشہ اپنے اندر رکھتا تھا۔ آپ کے جد وجہد کے زمانے میں کون سا ساتھی آپ کا سب سے قریبی رہا؟
آپ کو کب لگا کی آپ کی آواز دوسروں سے الگ ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر میں موسیقی کے میدان میں آنا چاہوں تو کوئی ساز بجانا سیکھوں اور گانے کا ارادہ چھوڑ دوں، میں نے بہت دنوں تک بجانا سیکھا، قریب دو سال تک گٹار سیکھتا رہا، کھبی تبلہ سیکھا، لیکن کچھ بھی نہیں سیکھ پایا۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ آپ جس طرح کی موسیقی گاتے ہیں اس میں ’ہیلنگ ٹچ‘ ہے۔ اگر آدمی سن لے تو اسے بہت راحت ملتی ہے۔ ہاں! یہ بالکل صحیح بات ہے، نیویارک میں میرے ایک ڈاکٹر دوست نے بتایا کہ دنیا میں ایسی کئی بیماریاں ہیں جس کا علاج صرف موسیقی سے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مجھے اس بات کی شاباش دی کہ میری موسیقی کچھ اسی طریقے کی ہے۔ میری موسیقی اور الفاظ کا ایک ایسا سنگم ہے کہ لگتا ہےکہ کوئی آپ کو بلا رہا ہے۔ آپ صوفی موسیقی زیادہ گاتے ہیں، تو صوفی موسیقی گانے کا فیصلہ کیسے کیا؟ میں ایسے کسی شخص کو نہیں جانتا جس نے اپنی جوانی میں شاستریہ موسیقی کی بنیاد پر بڑا نام حاصل کیا ہو، اور مجھ پر اپنے والدین کے سامنے کچھ کرنے کی ذمہ داری تھی، ان حالات میں میں نے صوفی موسیقی کو انتخاب کیا۔ آپ کو سب سے پہلا بریک کب ملا؟ میں اشتہار کے گانوں میں بہت چلا، پھر وشال شیکھر نے میری آواز سنی اور مجھے ٹرائل کے لیے بلایا، وہ گانا تھ 'االلہ کے بندے' وہ فلم کا نغمہ جب ایک برس بعد بازار میں آیا تو بہت مقبول ہوا اور بہت سے انعامات ملے، اس کے بعد میں تھوڑا بہت بہتر پوزيشن میں آگيا۔ آپ کا پسندیدہ موسیقا ر کون ہے؟ آپ نے جو بھی فلمی گیت گائے ہیں ان میں آپ کا سب سے پسندیدہ گانا کون سا ہے۔
منگل پانڈے فلم کا نغمہ ’ تیرا دیوانہ ہوں مولا، تیرا پروانہ ہوں مولا‘۔ اداکاری کرنے کادل نہیں چاہتا؟ موسیقی کے علاوہ کون سی چیزیں آپ کو پسند ہے؟ آپ کو عجیب نہیں لگتا کہ پہلے جد و جہد کرو بعد میں ذمہ داری پوری کرو؟ یہی سچ ہے صاحب، یہی زندگي کا مطلب ہے۔ آپ کی شادی ہوچکی ہے؟ آپ کی پسندیدہ اداکارہ؟ آپ کی آنے والی فلمیں کون سی ہیں؟ | اسی بارے میں بالی وڈ ستارے آئیفا ویک اینڈ میں08 June, 2007 | فن فنکار ’فنا‘ – جہادی اور جذبات کی کشمکش26 May, 2006 | فن فنکار ریشمیا کے برقعہ پہننے پر تنازع27 June, 2007 | فن فنکار بھارتی ایوارڈز: منُا بھائی، پنجر، شواس15 August, 2004 | فن فنکار فلم ایوارڈز: امیتابھ بہترین اداکار08 August, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||