BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محبوب خان کا صد سالہ یومِ پیدائش

محبوب خان
فلمساز محبوب خان ہندوستان کے چند اولین اور سرِ فہرست فلمسازوں میں سے ہیں
بھارتی فلمی صنعت کے لیجنڈ فلمساز محبوب خان کے صد سالہ یوم پیدائش پر حکومت نے ان کے نام سے ڈاک ٹکٹ منسوب کیا ہے جو جمعہ کو محبوب سٹوڈیو سے جاری کیا جائے گا۔

فلمساز محبوب خان ہندوستان کے چند اولین اور سرِ فہرست فلمسازوں میں سے ہیں اور محبوب سٹوڈیو بھی انہی نے بنایا تھا۔ ٹکٹ کی تقریبِ اجراء پر دلیپ کمار موجود ہوں گے جنہوں نے مسٹر خان کی کئی فلموں آن، امر اور انداز میں کام کیا تھا۔اس پروگرام میں نمی اور ان کے شوہر علی رضا کی شرکت بھی متوقع ہے۔ نمی نے بھی محبوب خان کی فلم آن اور امر میں کام کیا تھا۔

انڈین سنیما کو دنیا سے روشناس کرانے والی فلم ’مدر انڈیا‘ کے خالق کے صد سالہ یوم پیدائش پر فلم انڈسٹری خاموش ہے۔ فلمساز گرودت نے انڈسٹری کے اس رجحان کو جیتے جی ہی اپنی فلم ’ کاغذ کے پھول‘ میں پیش کیا تھا۔

انیس سو سات میں گجرات کے شہر بلی موریا میں پیدا ہونے والے، محبوب خان

مدر انڈیا کا پوسٹر
محبوب خان کی شاہکار فلم مدر انڈیا کا پوسٹر
کا تھیٹر اور فلم کا جنون اس حد تک بڑھا کہ وہ گھر سے بھاگ کر ممبئی آ گئے۔ یہاں انہوں نے امپریل فلم کمپنی سے اپنے کرئر کی ابتداء کی۔ فلمی دنیا میں وہ دور مار دھاڑ اور طلسماتی فلموں کا دور تھا۔

خان صاحب نے بھی اپنی ابتدائی فلمیں اسی انداز میں بنائیں۔ جن میں ججمنٹ آف اللہ اور علی بابا چالیس چور شامل تھیں لیکن یہ ان کی منزل نہیں تھی۔ وہ فلموں کو بامقصد میڈیا کے طور پر دیکھتے تھے اور اسی لیے انہوں نے فلم ’ایک ہی راستہ‘ اور اس کے بعد چند ایسی فلمیں بنائیں جن میں سماج کے سلگتے مسائل، امیروں کے ذریعہ غریبوں کا استحصال اور سماج میں عورت کے مقام کو اجاگر کیا۔ ’جاگیردار‘، ’بہن‘، ’روٹی‘ اور ’عورت‘ ایسی ہی فلمیں تھیں۔ ممبئی فلم نگری میں سب سے پہلی رنگین فلم ’آن‘ محبوب خان نے ہی بنائی تھی۔

فلم ’امر‘ میں دلیپ کمار، مدھو بالا اور نمی جیسے اداکار تھے۔ نوشاد کی موسیقی میں بنی فلم کے نغمے بہت مقبول ہوئے لیکن فلم کو مقبولیت حاصل نہیں ہوئی کیونکہ فلم میں دلیپ کمار کا کردار منفی دکھایا گیا تھا۔ محبوب خان نے اس دور میں ایسی ہمت دکھائی جب ناظرین ہیرو کا منفی کردار پسند نہیں کرتے تھے۔

محبوب خان کی ’مدر انڈیا‘ کو شاہکار فلم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ فلم کئی معنوں میں بھارتی فلمی صنعت کی یادگار فلم ثابت ہوئی۔ مدر انڈیا وہ پہلی فلم تھی جو غیر ملکی زبان کی فلموں کی حیثیت سے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی۔ فلم کے ذریعہ پہلی مرتبہ سنیل دت کو متعارف کرایا گیا تھا۔

مدر انڈیا آسکر کیلیے نامزد ہوئی
 محبوب خان کی ’مدر انڈیا‘ کو شاہکار فلم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ فلم کئی معنوں میں بھارتی فلمی صنعت کی یادگار فلم ثابت ہوئی۔ مدر انڈیا وہ پہلی فلم تھی جو غیر ملکی زبان کی فلموں کی حیثیت سے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی

فلم میں انڈیا کے دیہات کی صحیح تصویر پیش کی گئی۔ محبوب خان چونکہ دیہات میں رہ چکے تھے اس لیے انہیں وہاں کے تہوار، رہن سہن بول چال ہر بات سے واقفیت تھی اور یہی وجہ ہے کہ فلم نے ایک شاہکار کا روپ لے لیا۔

مدر انڈیا کے بعد محبوب خان نے ’سن آف انڈیا‘ بنائی جو زیادہ متاثر کن ثابت نہیں ہو سکی۔ اس فلم کے دو سال بعد اس صدی کے عظیم فلمساز اس دنیا سے کوچ کر گئے۔

گرو دتاحتجاج کا سنیما
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا۔۔۔
وی شانتا راموی شانتا رام
کلاسیکی دور کے کلاسیکی ہدایتکار
گولڈن ایجہندوستانی سنیما
گولڈن ایج پر ایک نظر، ایک بار پھر
رفیع کی26 ویں برسی
انڈین فلمی صنعت محمد رفیع کے بغیر مکمل نہیں
انتونیونیانتونیونی کی’مہم‘
جب جنسی تعلقات تک بے معنی بن جاتے ہیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد