BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 October, 2006, 18:51 GMT 23:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رتیک روشن : سب سے مہنگا سٹار

ریتک روشن
ریتک روشن نے اپنے معاوضے میں اضافہ فلم ’کرش‘ کی کامیابی کے بعد کیا ہے
رتیک روشن اب بالی وڈ کے سب سے مہنگے سٹار بن گئے ہیں۔ رتیک نے نامور صنعت کار انیل امبانی کی کمپنی ایڈ لیب کے ساتھ تین فلموں کا معاہدہ کیا ہے اور انہیں ان تین فلموں کے لیے پینتیس کروڑ روپے دیئے جائیں گے۔

اس معاہدہ سے قبل رتیک روشن ایک فلم کے تین سے چار کروڑ روپے ہی لیتے تھے۔ رتیک کی حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی فلم ' کرش ' کافی مقبول ہوئی ہے۔اس معاہدہ کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ رتیک کو یہ رقم چیک کے ذریعہ دی جائے گی یعنی پوری رقم پر انہیں انکم ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ جبکہ اب تک کی انڈسٹری میں فلمساز آّدھا معاوضہ چیک کے ذریعہ اور آدھا نقد دیتے ہیں تاکہ فلمساز اور اداکار دونوں اپنا ٹیکس بچا سکیں۔ لیکن اب چیک کے ذریعے رقم دینے اور لینے پر فلمساز اور اداکار دونوں پریشان ہیں۔

بالی وڈ فلمسازوں میں اس خبر سے تہلکہ مچ گیا ہے کیونکہ اب ان کی فلموں کے لئے انڈسٹری کے بڑے سٹار اس سے زیادہ معاوضہ طلب کر سکتے ہیں۔

اس سے قبل انڈسٹری میں سب سے زیادہ مہنگے سٹار عامر خان تھے جو سال میں ایک یا دو ہی فلمیں کرتے تھے لیکن ایک فلم کا سات سے آٹھ کروڑ روپے لیتے تھے۔ اس کے بعد نمبر شاہ رخ خان کا تھا جو چھ سے سات کروڑ روپے لیتے تھے۔ سلمان خان سال میں دو سے تین فلمیں کرتے ہیں لیکن چار سے پانچ کروڑ روپے لیتے ہیں۔ سیف علی خان کا نمبر سب سے بعد میں آتا ہے انہیں ایک فلم کا تین سے چار کروڑ معاوضہ ملتا ہے۔ البتہ امیتابھ بچن دو سے تین کروڑ روپے لیتے ہیں چاہے فلم میں ان کا کردار چھوٹا ہو یا بڑا۔

شاہ رخ اور عامر اکثر اپنی فلموں کے لئے اگر کچھ رقم چیک کے ذریعہ لیتے ہیں تو اس کا کچھ حصہ وہ اپنی فلموں کے غیر ملکی حقوق کے ذریعہ طلب کرتے ہیں۔

عامر خان ایک فلم کا ساتھ سے آٹھ کروڑ معاوضہ لیتے ہیں

ایڈ لیب کے ساتھ اس معاہدے نے کئی فلمسازوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ایک فلمساز جو کہ نام ظاہر کرنا نہیں چاہتے، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح تو انہیں بڑا خسارہ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اب ہر سٹار اپنا معاوضہ بڑھانے کی بات کرے گا۔

فلمساز کے مطابق ایک فلم بناتے وقت جو بجٹ بنتا ہے اس میں سے ساٹھ فیصد حصہ تو سٹارز کے معاوضوں میں ہی ختم ہو جاتا ہے اس کے بعد جو بچتا ہے اس میں سے مزید اس فلم کی تشہیر پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اور اگر فلم کامیاب ہوئی تو کوئی بات نہیں لیکن اگر فلاپ ہوئی تو فلمساز پوری طرح ڈوب جاتا ہے۔

اسی بارے میں
’یہ ہے بالی وڈ میری جان‘
03 April, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد