رتیک روشن : سب سے مہنگا سٹار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رتیک روشن اب بالی وڈ کے سب سے مہنگے سٹار بن گئے ہیں۔ رتیک نے نامور صنعت کار انیل امبانی کی کمپنی ایڈ لیب کے ساتھ تین فلموں کا معاہدہ کیا ہے اور انہیں ان تین فلموں کے لیے پینتیس کروڑ روپے دیئے جائیں گے۔ اس معاہدہ سے قبل رتیک روشن ایک فلم کے تین سے چار کروڑ روپے ہی لیتے تھے۔ رتیک کی حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی فلم ' کرش ' کافی مقبول ہوئی ہے۔اس معاہدہ کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ رتیک کو یہ رقم چیک کے ذریعہ دی جائے گی یعنی پوری رقم پر انہیں انکم ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ جبکہ اب تک کی انڈسٹری میں فلمساز آّدھا معاوضہ چیک کے ذریعہ اور آدھا نقد دیتے ہیں تاکہ فلمساز اور اداکار دونوں اپنا ٹیکس بچا سکیں۔ لیکن اب چیک کے ذریعے رقم دینے اور لینے پر فلمساز اور اداکار دونوں پریشان ہیں۔ بالی وڈ فلمسازوں میں اس خبر سے تہلکہ مچ گیا ہے کیونکہ اب ان کی فلموں کے لئے انڈسٹری کے بڑے سٹار اس سے زیادہ معاوضہ طلب کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل انڈسٹری میں سب سے زیادہ مہنگے سٹار عامر خان تھے جو سال میں ایک یا دو ہی فلمیں کرتے تھے لیکن ایک فلم کا سات سے آٹھ کروڑ روپے لیتے تھے۔ اس کے بعد نمبر شاہ رخ خان کا تھا جو چھ سے سات کروڑ روپے لیتے تھے۔ سلمان خان سال میں دو سے تین فلمیں کرتے ہیں لیکن چار سے پانچ کروڑ روپے لیتے ہیں۔ سیف علی خان کا نمبر سب سے بعد میں آتا ہے انہیں ایک فلم کا تین سے چار کروڑ معاوضہ ملتا ہے۔ البتہ امیتابھ بچن دو سے تین کروڑ روپے لیتے ہیں چاہے فلم میں ان کا کردار چھوٹا ہو یا بڑا۔ شاہ رخ اور عامر اکثر اپنی فلموں کے لئے اگر کچھ رقم چیک کے ذریعہ لیتے ہیں تو اس کا کچھ حصہ وہ اپنی فلموں کے غیر ملکی حقوق کے ذریعہ طلب کرتے ہیں۔
ایڈ لیب کے ساتھ اس معاہدے نے کئی فلمسازوں کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ایک فلمساز جو کہ نام ظاہر کرنا نہیں چاہتے، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح تو انہیں بڑا خسارہ اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اب ہر سٹار اپنا معاوضہ بڑھانے کی بات کرے گا۔ فلمساز کے مطابق ایک فلم بناتے وقت جو بجٹ بنتا ہے اس میں سے ساٹھ فیصد حصہ تو سٹارز کے معاوضوں میں ہی ختم ہو جاتا ہے اس کے بعد جو بچتا ہے اس میں سے مزید اس فلم کی تشہیر پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اور اگر فلم کامیاب ہوئی تو کوئی بات نہیں لیکن اگر فلاپ ہوئی تو فلمساز پوری طرح ڈوب جاتا ہے۔ | اسی بارے میں امیتابھ بچن اور شاہ رخ نمبر ون02 December, 2003 | فن فنکار بالی ووڈ میں سیکوئلز کا رجحان14 April, 2005 | فن فنکار ’یہ ہے بالی وڈ میری جان‘ 03 April, 2006 | فن فنکار انڈین فلمی صنعت بھیڑ چال کا شکار22 April, 2006 | فن فنکار ’مجھے وِلن کے کردار پسند ہیں‘ 08 June, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||