BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 September, 2006, 12:44 GMT 17:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش کی موت دکھانے پر تنازعہ
فلم کا ایک منظر
فلم میں صدر بش کو گولی مار دی جاتی ہے
ٹیکساس میں رپبلکن پارٹی نے کہا ہے کہ چینل فور نے ایک ڈرامے میں صدر بش کو قتل کرنے کے مناطر کو فلم بند کیا گیا ہے جو ان کے لیے پریشان کن اور حیران کن ہے۔

صدر کی موت دکھانے کے لیے آرکائیو فوٹیج، مختلف اداکاروں اور کمپیوٹر کے اثرات کا استعمال کیا گیا ہے۔ان کی مدد سے یہ دکھایا گیا ہے کہ صدر بش کو گولی مار دی گئی ہے۔

یہ غیر حقیقی ڈاکومنٹری بنانے والے برطانوی براڈکاسٹر چینل فور کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکہ کی شروع کی ہوئی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تمام اثرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس نے یہ ڈرامہ بنایا ہے۔

لیکن ٹیکساس میں رپبلکن پارٹی کے ترجمان گریچن ایسل نے خِبر رساں ادارے پریس ایسو سی ایشن سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ڈاکومنٹری کو ٹی وی پر دکھایا نہ جائے ۔ انہوں نے کہا ہے ’میں ایسی وڈیو دکھانے کی اجازت نہیں دے سکتی جس میں ہمارے صدر کے قتل کو دیکھایا گیا ہو بیشک وہ خیالی یا اصل ہی کیوں نہ ہو‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ ہماری دنیا میں دہشت گردی ابھی تک موجود ہے اور اس کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میرے لیے یہ بہت پریشان کن ہے اور میرا خیال ہے کہ امریکہ میں زیادہ تر لوگ اس طرح کی کسی چیز کو دیکھنا پسند نہیں کریں گے‘۔

نوے منٹ پر مشتمل اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ 2007 میں صدر بش کو شکاگو میں جنگوں کے خلاف ریلی میں نشانہ بنایا گیا جاتا ہے۔

صدر بش کو شکاکو پہنچ کر ایک احتجاجی مظاہرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ شکاگو بزنس لیڈرز سے خطاب کرنے گئے ہیں اور جب وہ خطاب کرکے باہر نکلتے ہیں تو انہیں گولی مار دی جاتی ہے۔ تفتیش میں دکھایا جاتا ہے کہ گولی مارنے والا ایک شام میں پیدا ہونے والا شخص ہے۔

پیٹر ڈیل، مور فور کے سربراہ
 ’یہ موجودہ امریکی سوسائٹی کو سوچنے کی دعوت دینے والا تبصرہ ہے۔یہ بہت زبردست اور طاقت ور کام کا نمونہ ہے۔ اس ڈرامے کو اس ڈاکومنٹری کی طرح تشکیل دیا گیا ہے جس کے شروع میں صدر بش کو قتل کر دیا جاتا ہے جو کہ ایک جاسوسی کہانی کا بہت اچھا آغاز ہے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان نے پروگرام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ ہم اس پر بات کرنا پسند نہیں کریں گے کیونکہ یہ اس قابل ہی نہیں ہے‘۔

اگلے ماہ ٹورانٹو فلم فیسٹول میں اس ڈرامے کا ورلڈ پریمیئر دکھایا جائے گا جس کے بعد اسے چینل فور پر پیش کیا جائے گا۔

برطانوی ٹی وی پریشر گروپ کے جان بییر کا کہنا ہے کہ یہ فلم ’غیرذمہ دار‘ ہے۔ انہوں روزنامہ ڈیلی مرر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس فلم سے صدر کو حقیقی طور پر قتل کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔ صدر بش کے خلاف بہت سے لوگ ہیں اور اس فلم سے ان کے دماغوں میں صدر کو قتل کرنے کے مختلف خیالات آ سکتے ہیں‘۔

مور فور کے سربراہ پیٹر ڈیل کا کہنا ہے کہ ’یہ موجودہ امریکی سوسائٹی کو سوچنے کی دعوت دینے والا تبصرہ ہے۔یہ بہت زبردست اور طاقت ور کام کا نمونہ ہے۔ اس ڈرامے کو اس ڈاکومنٹری کی طرح تشکیل دیا گیا ہے جس کے شروع میں صدر بش کو قتل کر دیا جاتا ہے جو کہ ایک جاسوسی کہانی کا بہت اچھا آغاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا سیاسی تجزیہ ہے کہ اس سے امریکی سیاسی صورتحال پر کیا اثر پڑا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ابھی جو لوگ اس سے پریشان ہیں جب وہ اس کو دیکھیں گے تو انہیں پتا چلے گا کہ اس کو بنانے کے پیچھے ایک نیک خیال ہے۔

اس فلم کے پروڈیوسر اس فلم کو دکھانے کے جملہ حقوق امریکہ کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ فلم ’ڈیتھ آف پریزیڈنٹ‘ 9 اکتوبر کو دکھائی جائے گی۔

اسی بارے میں
’انسانیت کے خلاف جنگ‘: بش
07 October, 2005 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد